کنرک(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر کنرک میں قابض ایرانی محکمہ انٹیلی جنس کے سادہ لباس اہلکاروں نے ایک بلوچ شہری کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق، بدھ 28 اکتوبر 2026 کو ایرانی محکمہ انٹیلی جنس کے سادہ لباس اہلکاروں نے ایک نگرانی کرنے والے ڈرون کے ہمراہ کنرک میں مذکورہ شہری کے گھر کا محاصرہ کیا۔ بعد ازاں اہلکار عدالتی وارنٹ پیش کیے بغیر گھر میں داخل ہوئے اور شہری کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار شہری کی شناخت 25 سالہ شبیر ریگی جریزیہی ولد بشیر کے نام سے ہوئی ہے، جو شادی شدہ اور دو بچوں کا والد ہے اور کنرک کا رہائشی ہے۔
ذرائع کے مطابق، انٹیلی جنس اہلکاروں نے گھر میں داخل ہونے سے قبل علاقے کا محاصرہ کیا اور پھر بغیر کسی عدالتی حکم کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اہلکار شبیر ریگی کو گرفتار کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے گرفتاری کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ تاہم اہلخانہ کو زبانی طور پر بتایا گیا کہ شبیر کے خلاف ایک ذاتی شکایت درج ہے، لیکن اس حوالے سے نہ تو کوئی ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی اہلخانہ کو گرفتاری کا عدالتی حکم دکھایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق، شبیر ریگی گرفتاری سے قبل کنرک میں اپنے والد کی ملکیت والی ماہی گیری کی کشتی پر کام کرتے تھے۔
گرفتاری کو دو روز گزرنے کے باوجود ان کے اہلخانہ کو تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔ شبیر نے بھی گرفتاری کے بعد سے اپنے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
اہلخانہ کو ان کے مقامِ حراست سے بے خبر رکھنے اور انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں سے رابطے کی اجازت نہ دینے کے باعث ان کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔


