Homeخبریںکوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، ظفر بلوچ، سہیل احمد اور...

کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، ظفر بلوچ، سہیل احمد اور فصیح اللہ کی عدم بازیابی پر تشویش کا اظہار

کوئٹہ (ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6405ویں روز بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ میں جبری طور پر لاپتہ ظفر بلوچ کی بھائی ثناء بلوچ نے شرکت کی اور اپنے بھائی کی گمشدگی سے متعلق تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔

ثناء بلوچ کے مطابق، ان کے بھائی ظفر بلوچ کو 16 اکتوبر کو کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ انہوں نے اپنے بھائی کی عدم بازیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ثناء بلوچ کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم کی جانب سے ظفر بلوچ کی گمشدگی کا کیس متعلقہ کمیشن اور حکومت کو فراہم کیا جائے گا اور ان کی بازیابی کے لیے ہر ممکن قانونی و آئینی فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ظفر بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی قوانین کے مطابق عدالت میں پیش کرکے شفاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسی بھی شہری کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ متعلقہ حکام ظفر بلوچ کے اہلِ خانہ کو ان کی سلامتی اور موجودگی کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کریں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے دو بلوچ طالب علموں، سہیل احمد ولد لعل محمد اور محمد فصیح اللہ شاہ ولد عبدالروف شاہ، کی یکم نومبر 2021 کو بلوچستان یونیورسٹی سے جبری گمشدگی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں، تاہم ان کی عدم بازیابی انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں طالب علم بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں بی ایس کے ریگولر طالب علم تھے اور یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔ دونوں نوجوانوں کی مبینہ جبری گمشدگی نے ان کے خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پانچ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، لیکن تاحال انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی قابلِ اطمینان معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی بازیابی اور ان کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں، عدلیہ اور کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیرنسز سے متعدد بار رجوع کیا، لیکن طویل قانونی جدوجہد اور مسلسل درخواستوں کے باوجود انہیں تاحال انصاف نہیں مل سکا۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ سہیل احمد اور محمد فصیح اللہ شاہ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے شفاف قانونی کارروائی کا حق دیا جائے۔ ان کی گمشدگی کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کا احتساب یقینی بنایا جائے اور خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں فوری طور پر مستند معلومات فراہم کی جائیں۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت، عدلیہ اور کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیرنسز سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، دونوں طالب علموں کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور متاثرہ خاندانوں کو مزید انتظار اور اذیت سے نجات دلا کر

انصاف فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز