Homeخبریںایران میں اکتوبر کے دوران 124 شہری گرفتار یا جبری طور پر...

ایران میں اکتوبر کے دوران 124 شہری گرفتار یا جبری طور پر لاپتہ، 16 بلوچ بھی شامل

ایران میں اکتوبر کے دوران 124 شہری گرفتار یا جبری طور پر لاپتہ، 16 بلوچ بھی شامل

 

زاہدان /سنندج (ہمگام نیوز) ہینگاو کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 64 کرد، 16 بلوچ، 16 خواتین کارکن اور 9 کم عمر بچے شامل ہیں، ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں 17 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

 

ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ہینگاو کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ایران بھر میں حکومتی اور سکیورٹی اداروں نے کم از کم 124 شہریوں کو گرفتار یا جبری طور پر لاپتہ کیا ہے، جن کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

 

ہینگاو کے شماریاتی و دستاویزی مرکز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ گرفتار ہونے والوں میں کم از کم 16 خواتین کارکن، 9 کم عمر بچے، 64 کرد، 16 بلوچ اور دو بہائی شہری شامل ہیں۔ سب سے زیادہ گرفتاریاں مغربی آذربائیجان اور کردستان کے صوبوں میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں ہر صوبے میں 27 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

 

صوبوں کے لحاظ سے گرفتاریوں کی تفصیلات

 

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران مختلف صوبوں میں گرفتاریوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

– کردستان (سنندج): 27 افراد

– مغربی آذربائیجان (ارومیہ): 27 افراد، جن میں 25 کرد، ایک ترک اور ایک فارسی شہری شامل ہیں۔

– مقبوضہ بلوچستان: 17 افراد، جن میں 16 بلوچ اور ایک فارسی شہری شامل ہیں۔

– خوزستان: 13 افراد، جن میں 10 عرب، دو لُر اور ایک نامعلوم نسلی شناخت کا شہری شامل ہے۔

– ایلام: 8 کرد شہری

– مشرقی آذربائیجان: 4 افراد

– تہران: 4 افراد

– خراسان رضوی: 4 افراد

– اصفہان: 3 افراد

– گلستان، لرستان، گیلان اور کرمانشاہ: ہر صوبے میں 2 افراد

– فارس: 2 افراد

– کہگیلویہ و بویراحمد، قزوین، جنوبی خراسان، اردبیل اور شمالی خراسان: ہر صوبے میں ایک ایک فرد۔

 

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لتھوانیا کے دو شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم ان کی گرفتاری کے مقام کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

 

قومی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے گرفتار افراد

 

ہینگاو کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے دوران گرفتار ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد کرد شہریوں کی تھی۔ مجموعی طور پر 64 کرد شہری گرفتار کیے گئے، جو ملک بھر میں ہونے والی گرفتاریوں کا تقریباً 51.5 فیصد بنتے ہیں۔

 

دیگر نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے گرفتار افراد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

– کرد: 64 افراد

– بلوچ: 16 افراد

– فارسی: 13 افراد

– عرب: 10 افراد

– ترک: 7 افراد

– لُر: 6 افراد

– گیلک اور مازندرانی: 2 افراد

– لتھوانیا کے شہری: 2 افراد

– نامعلوم نسلی شناخت: 7 افراد

 

مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 11 کارکن گرفتار

 

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران ایران میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم 11 کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں دو بہائی اور نو سنی مسلمان شامل ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں دو بہائی خواتین بھی شامل ہیں۔

 

بہائی شہری:

 

1. ژیلا موغن، اصفہان

2. فروغ رام، زاہدان

 

سنی مذہبی کارکن:

 

1. شیخ محمد صالح پردل، بندر عباس

2. حسین نواصری، شاوور

3. رضا چنانی محسنی، شاوور

4. علی شویہی، شاوور

5. امین شویہی، شاوور

6. جواد کنانی، شاوور

7. حامد غزلاوی، اہواز

8. رضا خسروجی، شاوور

9. عباس تمیمی، اہواز

 

اکتوبر میں 9 کم عمر بچے گرفتار

 

ہینگاو کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ایرانی سکیورٹی اداروں نے 18 سال سے کم عمر کم از کم 9 بچوں کو گرفتار کیا، جو اس ماہ ہونے والی مجموعی گرفتاریوں کا تقریباً 7 فیصد ہیں۔

 

ان میں چھ کرد بچے بھی شامل ہیں۔ گرفتار بچوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

1. امید قانونی، 17 سال، خوانسار

2. سارو صادق زادہ، 17 سال، بانہ

3. ایلیا لطفی تورمکچی، 17 سال، بانہ

4. ژیار رسولی، 17 سال، بانہ

5. دیاری عبدی، 17 سال، سنندج

6. محمد لطفی، 17 سال، سقز

7. پریا ناصری، 17 سال، نقدہ

8. امیرحافظ یزدان دوست، 14 سال، آذرشہر

9. ساجد نوروزی، 14 سال، آذرشہر

 

16 خواتین کارکن گرفتار

 

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران کم از کم 16 خواتین کارکنوں کو ایرانی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا، جو مجموعی گرفتاریوں کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں کم از کم آٹھ کرد اور دو بہائی خواتین شامل ہیں۔

 

گرفتار خواتین کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

– سقز: روژان ابراہیمی اور آیدا قادری

– سنندج: ناہید خداجو اور مونا دباغ

– نقدہ: پریا ناصری اور گونش فاتح

– لتھوانیا: دایوا زاکازاؤسکائتے اور اریکا سلیمایتے

– یاسوج: سائنا اسلامی

– کرمانشاہ: نیلوفر حقی بوژانی

– اصفہان: ژیلا موغن

– زاہدان: فروغ رام

– کلاترزان: ژینا احمدی

– بوکان: صدری بخشی

– شیراز: مہناز ابراہیمی

– بندر انزلی: راحلہ سلطانی

 

تین طلبہ اور دو اساتذہ بھی گرفتار

 

ہینگاو کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران کم از کم تین طلبہ اور دو اساتذہ یا یونیورسٹی کے پروفیسروں کی گرفتاری بھی ریکارڈ کی گئی۔

 

گرفتار اساتذہ:

 

1. مصطفیٰ مہرمہین، بوشہر

2. مہناز ابراہیمی، شیراز

 

گرفتار طلبہ:

 

1. مبیل شہلی بر، زابل

2. گونش فاتح، نقدہ

3. متین فرامرزپور، مہاباد

 

لکھاریوں اور فنکاروں کی گرفتاریاں

 

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکنوں کی گرفتاری کا کوئی واقعہ درج نہیں کیا گیا۔

 

تاہم لکھاریوں اور فنکاروں کی گرفتاریوں کے حوالے سے رپورٹ میں تین لکھاریوں اور دو گلوکاروں کی گرفتاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

گرفتار لکھاری:

 

1. مہدی عبیات، اہواز

2. الیاس قنواتی لاری، ماہشہر

3. جواد کنانی، اہواز

 

گرفتار گلوکار:

 

1. شورش ابوبکری، سردشت

2. ژینا احمدی، کلاترزان

 

رپورٹ میں فنکاروں اور فلمی اداکاروں کی گرفتاری کا کوئی واقعہ درج نہیں کیا گیا۔

 

ہینگاو نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس کے شماریاتی و دستاویزی مرکز میں درج ان واقعات پر مبنی ہیں جن میں گرفتار افراد کی مکمل شناخت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ تنظیم کے مطابق رپورٹ میں شامل تمام 124 افراد کی شناخت اس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز