سنندج/زاہدان (ہمگام نیوز) اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں پھانسیوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا، رواں سال کے ابتدائی دس ماہ میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد 689 تک پہنچ گئی۔
ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ہینگاو کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں 85 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی، جن میں چھ سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔ ستمبر کے مقابلے میں پھانسیوں کی تعداد میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ستمبر کے دوران 68 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
ہینگاو کے شماریاتی مرکز کے مطابق اکتوبر میں ہونے والی پھانسیوں کے بعد رواں سال 2026 کے آغاز سے اب تک ایران میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی مجموعی تعداد 689 ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے دوران پھانسی دیے گئے 85 قیدیوں میں سے 83 کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید دو قیدیوں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک خاتون قیدی کو بھی پھانسی دی گئی۔ اشرف فرجی نامی خاتون، جن کا تعلق اہواز سے تھا، کو قتل کے الزام میں ساری کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
ہینگاو کے مطابق اکتوبر کے دوران ایران کی جیلوں میں ایسے کسی بچے یا فرد کو پھانسی نہیں دی گئی جس نے جرم 18 سال سے کم عمر میں کیا ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں دی جانے والی مجموعی 85 پھانسیوں میں سے صرف 10 واقعات، یعنی تقریباً 12 فیصد، ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹس پر شائع کیے گئے۔ اس کے علاوہ نو قیدیوں کو ان کے اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر اور آخری ملاقات کا حق دیے بغیر خفیہ طور پر پھانسی دی گئی، جبکہ دو قیدیوں کو سرعام پھانسی دی گئی۔
چھ سیاسی قیدیوں کو پھانسی
ہینگاو کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران چھ سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ ان میں دی ماہ کے احتجاجی مظاہروں اور 40 روزہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے افراد بھی شامل تھے، جنہیں محاربہ، جاسوسی اور دیگر الزامات کے تحت سزائے موت دی گئی۔
پھانسی پانے والے سیاسی قیدیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. سیاوش جمشیدی خیرآبادی: لُر قوم سے تعلق رکھنے والے سیاوش کو شہرکرد میں دی ماہ (دسمبر 2025 تا جنوری 2026) کے کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 3 اکتوبر 2026 کو شہرکرد کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
2. علیرضا سپاہی: اصفہان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ علیرضا کو دی ماہ کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 5 اکتوبر 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
3. علیرضا رئیسی: لُر قوم سے تعلق رکھنے والے علیرضا کو بھی دی ماہ کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 5 اکتوبر 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
4. ایوب محمد نبیل: عرب قیدی اور عراقی شہری ایوب محمد نبیل کو سعودی عرب کے لیے جاسوسی کے الزام میں 11 اکتوبر 2026 کو رشت کی لاکان جیل میں پھانسی دی گئی۔
5. عمر درستاران: 27 سالہ بلوچ قیدی عمر درستاران کا تعلق راسک سے تھا۔ انہیں باغی (بغی) ہونے کے الزام میں 12 اکتوبر 2026 کو زاہدان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
6. علی سینا مصطفوی: بم سے تعلق رکھنے والے علی سینا کو 40 روزہ جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 14 اکتوبر 2026 کو کرمان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
پھانسیوں کی وجوہات اور الزامات
ہینگاو کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 میں سب سے زیادہ 49 قیدیوں کو قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی، جبکہ منشیات سے متعلق الزامات کے تحت 29 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی۔
مختلف الزامات کے تحت پھانسی پانے والے قیدیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
– سیاسی الزامات اور جاسوسی: 6 افراد
– قتل: 49 افراد
– منشیات سے متعلق الزامات: 29 افراد
– جنسی زیادتی: ایک فرد
قومی اور نسلی اقلیتوں کے قیدیوں کی تفصیلات
ہینگاو کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے دوران پھانسی پانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد فارسی قوم سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی تھی، جن کی تعداد 35 رہی، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 41 فیصد ہے۔
اس کے علاوہ 13 لُر اور 11 بلوچ قیدیوں کو بھی پھانسی دی گئی۔
مختلف قومی اور نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے پھانسی پانے والے قیدیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
– فارسی: 35 افراد
– لُر: 13 افراد
– بلوچ: 11 افراد
– ترک: 9 افراد
– کرد: 5 افراد
– گیلک اور مازندرانی: 4 افراد
– عرب: ایک فرد
– عراقی شہری: ایک فرد
– جن کی نسلی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی: 6 افراد
مختلف صوبوں کی جیلوں میں پھانسیوں کی تفصیلات
ہینگاو کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ایران کے 24 صوبوں کی مختلف جیلوں میں پھانسیوں پر عمل درآمد کیا گیا۔ سب سے زیادہ 16 قیدیوں کو صوبہ فارس کی جیلوں میں پھانسی دی گئی۔
صوبوں کے لحاظ سے پھانسیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
– فارس: 16 افراد
– البرز: 9 افراد
– خراسان رضوی: 8 افراد
– سمنان: 6 افراد
– مشرقی آذربائیجان: 5 افراد
– گیلان، گلستان اور کرمان: ہر صوبے میں 4 افراد
– ہرمزگان، خوزستان اور اصفہان: ہر صوبے میں 3 افراد
– مازندران، ہمدان، قزوین، مقبوضہ بلوچستان، زنجان، شمالی خراسان اور چہارمحال و بختیاری: ہر صوبے میں 2 افراد
– ایلام، کہگیلویہ و بویراحمد، مرکزی، مغربی آذربائیجان، یزد اور لرستان: ہر صوبے میں ایک ایک فرد
واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ہینگاو کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر مبنی ہیں۔















