شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے چار افراد کی مسخ شدہ نعشیں برآمد ،
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع خضدار کی تحصیل نال سے مقامی انتظامیہ نے دو افراد کی نعشیں برآمد کرکے شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کردیا تھا جن کی شناخت الہٰی بخش شکاری ولد رسول بخش اور منیر بلوچ کے ناموں سے ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق الہٰی بخش شکاری کو پاکستانی فورسز نے 30 اکتوبر 2026 کو نال بازار سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔ ان کی جبری گمشدگی کے بعد فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران ان کے بھائی اور بھتیجے کو بھی حراست میں لیا گیا، جنہیں اگلے روز رہا کردیا گیا، تاہم الہٰی بخش بدستور لاپتہ رہے۔ بعدازاں ان کی لاش برآمد ہوئی۔
دوسری جانب منیر بلوچ کی لاش بھی نال سے برآمد ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق انہیں علاقے میں سرگرم ریاستی سرپرستی یافتہ ڈیتھ اسکواڈ نے اغوا کیا تھا۔ دونوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مار کر قتل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے الگ الگ بیانات میں خاران کے رہائشی صلاح الدین ولد محمد علی اور پسنی کے 17 سالہ طالب علم ریان ولد الفت کے قتل کی تفصیلات بھی جاری کیے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق صلاح الدین کو ان کے بھائی آذر سمیت 7 اگست 2026 کو سہ پہر تقریباً 2 بجے خاران میں واقع ان کے گھر سے فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ صلاح الدین چیف چوک خاران میں سبزی فروخت کرتے تھے۔ چند روز بعد ان کے بھائی آذر کو رہا کردیا گیا، تاہم صلاح الدین بدستور لاپتہ رہے۔ دو ماہ سے زائد عرصے بعد 31 اکتوبر 2026 کو ان کی لاش خاران کے زردین کوٹی کے قریب سے برآمد ہوئی۔
بی وائی سی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں دورانِ حراست قتل کرکے واقعے کو جعلی مقابلے کا رنگ دیا گیا۔
بی وائی سی بیان کے مطابق پسنی کے وارڈ نمبر 6 کے رہائشی 17 سالہ طالب علم ریان ولد الفت کو 14 اکتوبر 2026 کو ان کے گھر سے ڈیتھ اسکواڈز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ آٹھ روز بعد 22 اکتوبر کو ان کی لاش پسنی کے علاقے کلانچ سے برآمد ہوئی۔ کمیٹی کے مطابق ریان ابھی طالب علم تھے اور انہیں شناختی کارڈ بھی جاری نہیں ہوا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ جبری گمشدگی کے بعد افراد کی لاشیں برآمد ہونا اور ان کے قتل کو جعلی مقابلوں کا نام دینا بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ایک تشویشناک سلسلے کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کو غیرقانونی حراست میں رکھنا، اہلخانہ کو اس کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنا اور بعدازاں اس کی ہلاکت کو مقابلہ قرار دینا قانون کی حکمرانی اور حقِ زندگی کی خلاف ورزی ہے۔


