واشنگٹن(ہمگام نیوز ) امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کی ریکارڈ مہنگی انتخابی اشتہاری مہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

سینیٹ کی پانچ اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں نے اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کے مقابلے میں 28 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم اشتہارات پر خرچ کی، تاہم دستیاب انتخابی تخمینوں کے مطابق ان ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

اشتہاری اخراجات کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام تک اوہائیو، ٹیکساس، مشی گن، آئیووا اور مین سینیٹ کی نشستوں کے لیے انتخابی اشتہارات پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والی پانچ ریاستیں تھیں۔

ان پانچوں ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں نے مجموعی طور پر تقریباً 96 کروڑ ڈالر اشتہاری مہم پر خرچ کیے، لیکن بھاری اخراجات کے باوجود انہیں ڈیموکریٹک امیدواروں کی جانب سے سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانچ ریاستوں میں اشتہاری اخراجات کا سب سے زیادہ فرق ٹیکساس میں سامنے آیا، جہاں ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے ڈیموکریٹک حریف جیمز ٹالاریکو کے مقابلے میں 14 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی رقم اشتہارات پر خرچ کی۔

اس کے باوجود انتخابی تخمینوں میں ٹالاریکو کو 10 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پانچ ریاستوں میں آئیووا واحد انتخابی مقابلہ تھا جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹوریک نے اپنے ری پبلکن حریف کے مقابلے میں اشتہارات پر کم رقم خرچ کی، تاہم وہ تقریباً پانچ فیصد پوائنٹس کی برتری کے ساتھ کامیابی کی پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔

انتخابی مہم کے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اشتہارات پر بھاری سرمایہ کاری لازماً ووٹروں کی حمایت میں تبدیل نہیں ہوتی اور انتخابی نتائج پر صرف تشہیری اخراجات اثرانداز نہیں ہوتے۔