واشنگٹن پوسٹ میں مشرق وسطی کے جنگ زدہ ملک عراق سے متعلق داعش کے جدید جنگی حکمت عملیوں سے متعلق بلگرٹز کا تحقیقی رپورٹ ترجمہ حیر آس بلوچ
امریکہ اور اتحادی فورسز نے جولائی میں شمالی شہر موصل کو داعش سے واپس لینے میں عراقی حکومت کی مدد کی۔ شہر کو آذاد کرنے کے بعد انہیں داعش کے سر گرمیوں اور کام کرنے کے نئے تفصیلات کا علم ہوا۔ ان کی ذہانت کی دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ دہشتگرد گروہ چھوٹے ڈرون کو دھماکہ کرنے اور ویڈیو نگرانی کیلئے استعمال کرتے تھے ۔یہ گروہ ان ڈرون کو فوجی دستے کے انداز میں چلاتے تھے اور اتنے تجربہ کار تھے کہ اگرکنٹرولر سے رابطہ منقطع بھی ہو جاتا تو وہ انہیں الیکٹرانک طریقے سے چلاتے تھے تاکہ مہم کو پورا کر سکے ۔
ہر ڈرون کی قیمت لگ بھگ 500$تک ہے اور انہیں دستی بم گرانے کیلئے استعمال کرتے تھے اور ایک دوسری بنائی گئی ویڈیو جسے داعش نے پروپیگنڈہ کیلےانٹرنیٹ میں دیا تھا جس میں وہ ایک گولہ بارود سے بھری گاڑی کو نشانہ بناتے ہے جس سے دوسرے کئی دھماکے ہوتے ہیں ۔
اس کے علاوہ داعش نے موصل میں ایک بہتر اور وسیع سرنگ بنائی ہے جس میں وائی فائی بھی ہے اور دہشتگرد اسے استعمال کر سکتے تھے جب وہ زیر زمین بھی ہوتے تھے ۔اسی تنگ راستوں میں جو ایک خاص قسم کے بورنگ مشین سے بنے ہوتے ہے جو پورے سرنگ میں پیھلے ہوے تھے اور ٹرکوں کو کنٹرول کرنے کے قابل تھے ۔سرنگ کی کھدائی کے دوران داعش کو زیر زمین موصل کی قدیم تہذیبی کھنڈرات بھی ملے۔
داعش نے پروپیگنڈہ کرنے کیلئے اکثر فیس بک اور ٹوہیٹر سے فائدہ اٹھایا۔
اتحادی افواج دہشتگرد گروہ کی سرگرمیوں کا سراغ ان کے ٹوئیٹر پہ پوسٹوں کی مدد سے لگایا ۔
امریکہ اور اس کی اتحادی افواج فیس بک کو استعمال کر کے داعش کی سر گرمیوں کو کاونٹر نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ امریکی برائے جنگی عملیات کے قوانین کے خلاف تھا۔
بہتر پلیٹوں کی فقدان کی وجہ سے داعش کی گاڑی بمبوں کا استعمال متاثر ہوا چنانچہ اس کی جگہ انہوں نے Kia SUV کا استعمال کرنا شروع کردیا ۔
داعش نے Kia گاڑی میں بم نصب کر کے ایک عراقی M-1A1ٹینک کو تباہ کردیا جسکی ڈرون کے ذریعے ویڈیو بنائی گئی تھی ۔


