ہمگام کالم : آج 19 فروری 2019 کو شہید ‘نورالحق عرف بارگ’ کی پہلی برسی ہے جس کی مناسبت سے ان کی شخصیت و کردار پر تحریر لکھ کر شہید کی یاد کو اپنے قوم کے سامنے زندہ رکھنا کسی بھی قوم دوست سنگت کیلئے لازمی ہوتا ہے ۔ بلوچ قوم کے ہر وہ فرزند جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بلوچ سرزمین کی آزادی کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ان کو ہمیشہ کیلئے عقیدت و محبت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا ۔ بلاشبہ شہید ‘ بارگ’ نے کم عمری سے لیکر شہادت تک مختلف سیاسی و جنگی نشیب و فراز کا سامنا کیا تھا، سیاسی میدان سے لیکر جنگی معاز تک کسی بھی حالت و صورت میں اپنے ہم فکر دوستوں کے ساتھ مل کر دشمن کے سامنے ایک سخت چٹان کی مانند آخر تک ثابت قدم رہے ، شہید نے جنگِ آجوئی میں جان ،باز و سرفروش نوجوانوں کے ساتھ اس پرکھٹن سفر کو انتہائی محنت اور عزم مصمم کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا . قلم سے لے کر بندوق تک، بندوق سے لے کر آخری گولی و شہادت تک ہمارے نئی نسل کے نوجوانوں کیلئے ایک نمونہ و آئیڈیل مثالی کردار ثابت ہوئے، اس کا ثبوت شہید کی آخری گولی تھی جس نے وطن و گلزمین کی مٹی کے دفاع کی خاطر اس آخری گولی کو خندہ پیشانی و جرات کے فیصلے کے ساتھ خود کو دشمن کے حوالہ نہ کرکے اپنے حلق و سر میں پیوست کر کے یہ سبق دے کر ثابت کردیا کہ بلوچ نوجوان قومی آزادی جیسے نعمت کو حاصل کرنے کیلے ہر ممکن کوشش و قربانی کیلئے تیار ہیں اگر اس کے حصول کی واسطہ سروں کا نذرانہ پیش کرنا ہو یا بلوچ وطن کی آزادی خون مانگتی ہو تو ہمیں اور ہمارے تمام نوجوانوں کو بخوشی قبول ہے ۔لیکن قوم کی غلامی ہمیں ہر گز نہیں کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ! شہید ‘نورالحق عرف بارگ’ہمیشہ اس جملے کو دہراتے تھے کہ “نسلوں کی خوشی کیلئے ایک نسل کو جدوجہد کرکے قومی آزادی کیلئے خوار ہونا لازمی بات ہوتی ہے”. یہ ایک بہت ہی معنی خیز جملہ تھا، جس کو سمجھنا بہت ہی آسان ہے ہر آدمی اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے لیکن اس جملے پر عمل کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے، اس پر وہی لوگ عمل کر سکتے ہیں، جو کسی عظیم مقصد کیلئے اپنے ارادوں میں پکے اور نیت کے مخلص ہوتے ہیں، شہید ‘بارگ’ ایک حقیقی استاد ،ایک سرمچار ،ایک جان باز سپائی تھے ،جو 19 فروری2018 کو جھالاون زہری تراسانی کے مقام پر شہید ضیاالحق عرف ‘دلجان’ کے ہمراہ دشمن سے دو بدو لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ہم اپنی قوم کے ایسے سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ آزادی کی راہوں میں یاد رکھیں گے ۔بعض لوگ کچھ اس طرح سے سوچھتے ہیں کہ انسان کب تک لڑتا رہے گا؟ تھک جائے گا ہار جائے گا دشمن کے بربریت کے سانے ڈھیر ہوجائے گا، بھوک بیماریاں خاندان و بال بچوں کے غم یا زمہ داری اور اصول پرستی کی بوجھ کب تک انسان اپنے کاندھوں پر اٹھاتا پھرے گا؟ کوئی حد ہوتی ہے برداشت کی بھی لیکن یہاں جب شہید نورالحق جیسے باہمت پر عزم نوجوانوں کی کہانی کو دیکھتے ہیں تو دل میں ایک حوصلہ سا پیدا ہوتا ہے کہ انسان تھکن سے چور ہوکر اپنے عظیم قومی مقصد سے قطعا دست بردار نہیں ہوسکتا، انسان دشمن کی درندگی اور وحشی طاقت سے ڈر کر اپنے مادر وطن کی مہر اور قومی آزادی کو چھوڑ کر دشمن کے سامنے کبھی بھی سجدہ ریزہ نہیں ہوسکتا، لیکن شرط یہی ہے کہ وہ شخص حقیقت میں کوئی انسان ہی ہو اور اس میں انسانی خصلت بنیادی آزادیوں کو پانے کی تمنا اور ولولہ موجود ہو،تو یعقینا ایسے کردار ہمیشہ کیلئے تاریخ کے پنوں میں تحریر ہوکر بہادر حوصلوں کی داستان کے ساتھ ‘قومی آزادی تاریخ’ کی کتاب کے باب میں رقم ہو کر ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں۔ قومی آزادی جہد کے سفر میں شہداء ہو یا کہ غازی ان میں کچھ چیزیں خاص طور مشترک ہوتی ہیں جو انھیں معاشرے کے دیگر افراد سے جداگانہ حیثیت بخشتی ہیں کیونکہ معاشرے کے دیگر افراد اپنی زندگی بال بچوں کی پرورش و انکی بہتر تعلیم و تربیت پر صرف کرتے ہیں اور ایک ہی گھر یا ایک ہی خاندان کی بہتری و بھلائی کے لیے زندہ رہتے و سوچتے ہیں لیکن غازی و شہداء ایک خاندان و ایک علاقہ نہیں بلکہ اپنے پوری قوم کی بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرکے داو پر لگا دیتے ہیں جس میں شہادت انکا مقدر ٹہھرتی ہیں اور وہ اسی ڈگر پر ہر وقت موت کے سایہ تلے زندگی گزارتے رہتے ہیں کھبی ایک عام شخص ایسے کرداروں پر غور کیا ہے؟ کہ آخر وہ کونسے عوامل ہوتے ہیں جو ایک شخص کو اپنی زندگی داؤ لگانے پر مجبور کرتی ہیں؟ دنیا کی تاریخ میں ہزاروں لوگ جنگوں میں مارے گئے لاکھوں لوگ بیماریوں کا لقمہ اجل بنے لیکن جو مر کر بھی زندہ رہے وہ ان جنگوں کے کردار ہیں جو وطن کی دفاع میں دشمن سے لڑے اور قوموں کی پہچان وہی لوگ بنے جو مر کر بھی قوم کو زندہ رکھتے رہے ہیں۔ اور قوم نے انھیں مرنے نہ دیتے انکے مرنے بعد وہ مثالی نمونہ بن کر پوری قوم کی پہچان بن جاتے ہیں ۔شہید نواب اکبر خان بگٹی آج ہم میں زندہ نہیں رہے لیکن آج وہ قوم کیلئے مثالی کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں.دھرتی ماں کی اس پکار پر ہزاروں بلوچ فرزندوں نے لبیک کہہ کر دھرتی ماں کی حفاظت کرنے بلوچستان کے پہاڑوں کو اپنا مسکنی مورچہ بنا لیا ہزاروں قوم دوست نوجوانوں نے سیاسی پلیٹ فام سے جدوجہد شروع کی تو بعض نے مسلح ہوکر دشمن کو للکارا ایسے میں شہید نورالحق عرف بارگ جان نے سیاسی ومزاحمتی پلیٹ فام سے اس کاروان اے آجوئی میں شامل ہوکر دھرتی ماں کی قرض ادا کرتے رہے۔ سیاسی پلیٹ فام پہ ایک ایسے وقت میں جب سیاسی کام کرنا ان کیلئے مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا تو دھرتی ماں کی اس جانباز فرزند نے فیصلہ کرلیا کہ اب مسلح محاز ہی ایک واحد اور موثر راستہ باقی بچا ہیں جہاں سے ہم اپنی قومی زمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں گے اور پھر یہ بہادر سپوت تادم اے شہادت مسلح جدوجہد سے ہی جھڑے رہے۔ مزاحمتی جدوجہد میں بھی اس جانباز فرزند کی بہادری ان کی جرات اور ایمانداری قابل اے دید تھی ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ وہ جہد اے مسلسل اور علمی میدان میں بھی کافی مہارت رکھ کر دشمن کلئے سخت نوالہ ثابت ہوئے۔ اس جانباز نے شہید دلجان کے ہمراہ دشمن کے معاصرے میں آکر سخت جنگ لڑتے ہوئے شدید زخمی حالت میں آخری گولی تک دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے وطن کے یہ عظیم کردار اپنا فرض نبھا کر اپنے قوم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے لیکن انکی قربانیاں تاں ابد بلوچوں کے دلوں میں زندہ و پائیندہ رہینگے ۔