مولانا ابوالکلام آزاد کا آغا شورش کاشمیری کو دیا گیا انٹرویو ۔ بعد میں یہ انٹرویو چٹان اور شورش کاشمیری کی کتاب ” ابوالکلام آزاد” میں شائع ہوا۔ شورش کے الفاظ میں یہ باتیں ایک عشرے پر محیط ہیں لیکن سیاسی مکالمہ غالبا 1946-1947 کے دور کا ہے۔ یہ تحریر اصل متن کی تلخیص ہے۔۔۔ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان جب تک زندہ ہیں اس وقت تک مشرقی پاکستان کا اعتماد متزلز ل نہیں ہو سکتا، لیکن دونوں کے چلے جانے کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ بھی ناراضگی اور اضطراب پیدا کر سکتا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مشرقی پاکستان کے لیے بہت طویل مدت تک مغربی پاکستان کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو گا۔ دونوں خطوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے ماسوائے اس کے دونوں اطراف کے رہنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں مسلمان کہیں بھی پائیدار سیاسی اتحاد پیدا ہی نہیں کر پائے،عرب دنیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مشرقی پاکستان کی زبان، رواج اور رہن سہن مغربی پاکستان کی اقدار سے مکمل طور پر مختلف ہیں ۔پاکستان کے قیام کی گرم جوشی ٹھنڈی پڑتے ہی اختلافات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، جو جلد ہی اپنی بات منوانے کی حد تک پہنچ جائیں گے۔ عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ میں یہ اختلافات شدت اختیار کرینگے اور پاکستان کے دونوں حصے الگ ہو جائیں گے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان خطے میں موجود تضادات اور اختلافات کا میدان جنگ بن جائیگا ۔ پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کا اپنی قومی تشخص بیرونی مداخلت کے لیئے دروازے کھول دے گا۔ وہ وقت دور نہیں ہو گا جب عالمی قوتیں پاکستان کی سیاسی قیادت میں موجود مختلف عناصر کو استعمال کر کے اس کو بخرے کر دیں گی، جیسا کہ بلکان اور عرب ریاستوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس وقت ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں گے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟اصل مسئلہ یقینی طور پر مذہب کانہیں بلکہ معاشی ترقی کا ہے۔ مسلمان کاروباری قیادت کو اپنی صلاحیت اور ہمت پر شکوک وشبہات ہیں۔ مسلمان کاروباری حضرات کو سرکاری سرپرستی اورمہربانیوں کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ وہ نئی آزادی اور خود مختاری سے خوفزدہ ہیں ۔وہ ‘دو قومی نظریے’ کی آڑ میں اپنے خوف کو چھپاتے ہیں اور ایسی مسلمان ریاست چاہتے ہیں، جہاں وہ بغیر کسی مقابلے کے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں ،یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہو گا کہ وہ کب تک اس فریب کاری کوزندہ رکھ سکتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے قیام سے ہی پاکستان کوبہت سنگین مسائل کا سامنا رہے گا جیسے کہ (1) کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نااہل سیاسی قیادت فوجی آمروں کی راہ ہموار کریگی۔ (2) بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ہو گا۔(3)پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان اور جنگ کے امکانات ہونگے۔ (4)داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ہوں گے۔(5)پاکستان کے صنعتکاروں اور نو دولتیوں کے ہاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ہو گی۔ (6) نو دولتیوں کے استحصال کے نتیجے میں طبقاتی جنگ کا تصور ہو گا۔(7)نوجوانوں کی مذہب سے دوری اور عدم اطمینان اور پاکستان کی نظریاتی اساس کا خاتمہ,,,,,