ہمگام کالم : ہندوستان میں کشمیر کے مسئلہ پر بہت بحث ہورہا ہے کہ اس مسئلہ کو کس طرح سے ڈیل کیا جائے ؟ تو انڈیا کے اداراے ‘ RAW ‘ کے سربراہ اے ایس دلت نے کہا کہ دنیا کی زیادہ تحریکوں کو باریک بینی سے دیکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پیسہ اور دولت سے کسی بھی جہدکار یا تنظیم کو کرپٹ کرنا انکو مارنے سے ہزار گناہ بہتر ہے ،اگر کسی بھی جاندار تحریک کو ختم کرنا یا کمزور کرنا ہو تو اسے کرپٹ کرو ،انھوں نے کہا کہ وہ اس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں کہ کشمیری جہدکاروں کو پیسے کی طرف مائل کرکے انکو کرپٹ کیا جائے، تب جاکر وہ تحریک خودبخود کمزور ہوگا اور اس تحریک کی ساکھ و اعتبار اپنے عوام میں اور دنیا کے سامنے خراب ہوگا ۔ آج تک مختلف طریقوں سے قومی جدوجہد کو کاوئنٹر کرنے کے حربے آزمائے گئے ہیں ، کسی بھی جدوجہدکو مکمل طاقت اور قوت سے زیر کرنا زیادہ مشکل سمجھا جارہا ہے کیونکہ اس سے لوگوں میں مزید تحریک پیدا ہوتی ہیں۔جبکہ زیادہ تر قابض طاقتوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ جہدکاروں کو قومی جدوجہد سے بیگانہ کرکے جرائم پیشہ بنالیں، انکو دولت، شہرت ،اور آسائش کا عادی بناکر انکی ساکھ کو تباہ و برباد کریں. چانکیہ نے بھی حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ جب کبھی کئی سے شورش کا خطرہ ہو تو شورش کو طاقت کے زریعے دبانے کے بجائے لالچی حربہ استعمال کرکے انکو مکمل ختم کردینا آسان ہوتا ہیں ،کیونکہ اس کے کپڑے جب کانٹے کی درخت سے پھاڑے گئے تو اس نے کانٹے دار درخت کو قینچی سے کاٹنے کے بجائے اس کانٹے دار درخت کے اندر شیرنی سمیت دودھ ڈال دیا،جب بادشاہ نے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو نے اس درخت کو کاٹنے کے بجائے اس میں شیرنی والی دودھ کیوں ڈالا ؟انھوں نے کہا اگر میں درخت کو کاٹ دیتا تو یہ مزید نئے جڑوں کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوتا میں نے شیرنی دودھ ڈالا تاکہ سارے چیونٹی شیرنی کو دیکھ یہاں جمع ہوکر اس درخت کو جڑوں سے اتنا خستہ کر د ے تاکہ دوبارہ وہ سر نہ اٹھاسکے.تجزیہ نگار قابض کے جہدکاروں کو کرپٹ کرنے کے عمل کو تحریک کو جڑوں سے اتارنے کے مترادف عمل سمجھتے ہیں انکو شیرینی دودھ کی طرف راغب کرنے کا عمل انکو جرائم پیشہ کاروائیوں میں ملوث کرکے کیا جائے تاکہ پوری تحریک کو عوامی اور دنیا کے حوالے سے متنازع بنا کرجڑ سے اکھاڑنے کے کام بنایا جائے ۔ بڑی،بڑی تحریکیں شہرت،دولت، آسائش،اورلالچ میں پھنس کر ختم ہوئے. دنیا میں کئی کوئی بھی قومی تحریک پیسہ نہ ہونے اور غربت یا بھوک کی وجہ سے ختم نہیں ہوا ہے بلکہ زیادہ تر جرائم پیشہ کام اور ساکھ کی خرابی کی وجہ سے عوامی اعتماد کھو کر کمزور ہوکر بالآخر ختم ہوئے ۔چالباز قابضین نے ہمیشہ لالچ ،اور طامع کو جہدکاروں میں عام کرتے ہوئے انکو مقدس قومی کاز سے ہٹا کر جرائم پیشہ کام کی طرف مائل کرتے ہوئے پاک و صاف جہدکار سے موڑتے ہوئے کرپٹ و گندہ کرتے ہوئے انکی معتبریت و اعتمادیت کو ختم کرکے انکو چور چکار بناکر تحریک کو جڑوں سے اکھاڑ دیا ،کیونکہ چور چکاروں اور جرائم پیشہ لوگوں پر کوئی گینگ اور ایک گروہ یقین کرسکتا ہے لیکن قوم اور دنیا میں انکی کوئی اعتماد نہیں ہوسکتا، لڑنے اور مارنے کے لیے چور ،اسمگلر،گینگ،ڈاکو،مافیاوغیرہ لڑتے رہتے ہیں، پیسہ بھی کماتے ہیں اور بہت سے لوگ خوفزدہ ہوکر ان سے ڈرتے بھی ہیں جیسے کہ پولن دیوی،پان سنگھ تومر،ڈاکو مان سنگھ ،نربھا گجر،رحمان ڈکیت ،بابالاڈلا،عزیر بلوچ، داؤد ابرائیم ،جیسے لوگوں نے بھی ریاستوں کو اپنے جرائم پیشہ عمل کی وجہ سے تنگ کیا ہوا تھا۔ انکے ساتھ بھی جنگ کیا گیا، لیکن عوام میں انکی اعتماد اور بھروسہ کا سطح کیا تھا؟ اگر کوئی بدبخت مقدس قومی بندوق ہاتھ میں رکھ کر قومی تحریک کی مقدس عمل کو جرائم پیشہ اور قومی تحریک کا آمیزش بناکرقومی تحریک کی بندوق ہاتھ میں رکھ کر پان سنگھ تومر،ڈاکو مان سنگھ ،نربھا گجر اور بابا لاڈلا کا کام کریگا تو کیا وہ اپنے بھروسے کے ساتھ، ساتھ پوری قومی تحریک کا بیڑہ غرق نہیں کررہا؟ اس لیے قابض کوشش کرتا ہے کہ ایسے لوگ قومی تحریک میں سرائیت کریں جو مقدس قومی بیرک ،قومی جہد قومی سلوگن اورمقصد کو داغدار بنا کراسکی یقین بھروسہ،امید،ساکھ اوراعتماد کو قوم و دنیا کے سامنے متنازع و اختلافی بنائیں۔ جب کوئی خالص اور پاک قومی پروگرام عوام کے درمیان نزاعی اور متنازع، اختلافی بن جائے تو کون اس پر یقین کریگا؟ وہ آہستہ آہستہ عوامی حمایت سے محروم ہوکر زوال کی جانب گامزن ہوگا۔ قابض دشمن بھی تحریک کے اندر آسائش،گاڑی بنگلہ،عیش و عشرت، نمودو نمائش کی حوصلہ افزائی کرکے رواج دیتا رہا، جب تو انھہی آسائش کی خاطر جہدکار چوری چکاری ،اغوا برائے تاوان ،منشیات کا کاروبار کرکے وہ جہدکار سے آہستگی کے ساتھ چور چکار،ڈاکو،منشیات فروش،اغواہ کار سے اب منظم مافیا کی شکل اختیار کر گئے ،کیونکہ بندوق منشیات فروش،ڈاکو،مافیا اور چور کے پاس بھی ہوتا ہے لیکن چور منشیات فروش اور ڈاکو کے پاس قومی پروگرام و اخلاقی برتری نہیں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے آسائش آرام ،گاڑی بنگلہ اور عیش وعشرت کی خاطر چوری چکاری اغوا برائے تاوان سے گریز نہیں کرتا، لیکن ایک قومی جہدکار کی بندوق نظریہ ،قومی سوچ اور قومی پروگرام کے ماتحت ہوتا ہے۔ وہ سختی ،مشکلات ،مصائب ،مصیبت اور تنگی برداشت کرتا رہتا ہے لیکن اسکے نظریہ قومی پروگرام کی عمل اسکو بچوں تک کے اغوا ،منشیات کی لوٹ مار اور چوری چکاری کرنے سے ممانعت کرتا ہے. قومی نظریہ ،قومی پروگرام اور قومی سوچ ہی ایک جہدکار کو تنگی ،مشکلات اور مصبیت کے وقت چوری چکاری کرنے سے منع کرتا ہے قومی پروگرام اسکے سامنے جرائم پیشہ عمل کرنے کے وقت رکاوٹ ہوتی ہے۔جو جہد کار اس قومی اخلاقی باونڈری لائن کو عبور کرتا ہے تو وہ چور و ڈاکو کے دائرے میں چلاجاتا ہے۔ قابض دشمن کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی قومی جدوجہد میں وہ ایسے ماحول بنائیں کہ جہدکار اس اخلاقی برتری کے باونڈری کو عبور کرکے جہدکار سے چور ڈاکو ،مافیا اور منشیات فروش بن کر عیش و عشرت اور گاڑی بنگلوں میں مگن ہو کر ان کا پورا سسٹم مکمل کرپٹ ہو جائیں، جس سے قومی پروگرام اور قومی آزادی کے نظریہ کی جگہ چوری چکاری اور عیش وعشرت میں لگ جاتے ہیں قابض کی مشکلات میں روز بروز آسانیاں پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ آجکل قومی تحریکوں کو مکمل ختم کرنے کے حوالے سے دشمن مختلف آپشنز پر کام کررہے ہیں وہ مکمل قتل وغارت گری سے کسی بھی تحریک کو ختم نہیں کرسکتے، وہ اپنے دم چلے اور سرایت کردہ چند لوگوں کو کسی بھی تنظیم میں بھیج کر سارا سسٹم یرغمال بنادیتے ہیں اور وہ تحریک کو اس طرح سے رخ دیتے ہیں کہ جس کا کوئی روشن مستقبل نہ ہو، یا جس پرکوئی بہتری کی توقع نہ رکھ سکے ۔کسی بھی سماجی،انقلابی،یا قومی آزادی کی تحریک میں جہدکاروں کا ایک چیز پر زور رہا اور انکو تنظیم، شخص ،لیڈر کی جگہ قومی سوچ ،خیال اور قومی پروگرام حفظ کروایا گیا، انکو اس بات کی تعلیم دے کر کہا گیا کہ ایک شخص ناکام ہوسکتا ہے ،پکڑا جاسکتا ہے،مارا جاسکتا ہے وہ گمنام ہوسکتا ہے لیکن چار سو سال بعد بھی ایک اچھی خیال قومی پروگرام واخلاقی برتری کے ساتھ کسی خطے میں متحرک ہوکر کوئی تبدیلی لا سکتا ہے ۔بلوچ قومی تحریک میں شروع دن سے قابض کے خلاف ایک سوچ اور نفرت تھا لیکن وہ خیال اور قومی پروگرام واضح و روشن نہیں تھا بلکہ 1948سے لیکر1996تک مبہم اور ابہام کا شکار تھا کسی نے کھل کر قومی آزادی کی واضح پروگرام نہیں دیاتھا، لیکن 1996میں بلوچ رہبر حیربیار مری نے بلوچ قومی تحریک کی جدید سائنسی بنیادوں پر بنیاد ڈال کر قوم اور دنیا کے سامنے متعارف کروایا۔ جس نے سال 2000 میں ابہام اور تذبذب کے صورت حال کو ختم کرکے واضح اور غیر مبہم طور پر بلوچ قوم کو قومی آزادی کا پروگرام دیا اور 2000میں بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے بلوچ دھرتی میں دُشمن پر وار کرکے بی بی سی پر پہلی بار آزاد بلوچستان کا قومی پروگرام متعارف کروایا ،جو آہستہ آہستہ آزاد بلوچ کا آزاد بلوچ دھرتی کی پروگرام بلوچستان میں عوامی سطح پر عام ہوتا گیا ۔لوگوں نے تہہ دل سے قومی پروگرام کا ساتھ دیئے۔ بلوچ قومی تحریک سال 2008 تک دنیا میں مثالی تحریک رہا ۔ قومی پروگرام کو کامیاب کرنے کی خاطر حیربیار مری کبھی بھی منظر عام پر نہیں آیا بلکہ وہ روپوش رہ کر قومی تحریک کو ایمانداری و مخلصی سے چلاتے رہے۔اس دوران بہت سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ نیشنل پارٹی و بی این پی مینگل اس تحریک کی رہنمائی کررہے ہیں لیکن حیربیار مری کو نام شہرت اور کریڈٹ لینے کا شوق نہیں تھا اور وہ گمنامی میں رہ کر پس پردہ اپناکام کرتا رہا لیکن قابض نے ضرور اپنے دُشمن کو ڈھونڈ نکالا اسکو آخر میں پتہ چلا کہ پوری قومی تحریک کو کس طرح حیربیار مری سائنسی انداز میں کامیابی کے ساتھ چلارہے ہیں۔ تو اس نے اسے لندن میں گرفتار کروایا تب اسکا نام منظر عام پر آیا لیکن اس نے کھبی بھی قومی تحریک کے حوالے بھڑک بازی اور بڑی باتیں نہیں کی۔ صرف جدوجہد کرتا رہا پھر شہید بالاچ مری جدوجہد میں شامل ہوئے لیکن کھبی بھی اس نے سستی شہرت کی خاطر شوشا کا سہارا نہیں لیا کہ وہ بی ایل اے کی کمانڈ یا رہنما ہے بلکہ وہ ایمانداری سے اپنا قومی فریضہ سرانجام دیکرآزادی کی تحریک کو کمک دیکر توانا و مضبوط کرتے رہے۔ بلوچ قومی تحریک 2008تک دنیا کی بہترین تحریکوں میں شمار ہوتا رہا لیکن بعد میں پاکستان نے اپنی سازشوں کا ریاستی جال بچھا کر نام نہاد موقع پرست مڈل کلاس نمود نمائشی لوگوں نے بھی موقع پاکر قومی تحریک کو قوم اور دنیا کے سامنے تماشا بنایا، ہر ایک کمانڈر کو نمود ونمائش کا نشہ لگ گیا، افیون کی طرح بلوچ قومی تحریک میں نمود ونمائش کا نشہ اس حد تک پھیل گیا کہ آجکل یہ عیب نہیں سمجھا جاتا، نمودو نمائش کے ساتھ ،ساتھ آسائش آرام پسندی ،عیش وعشرت شوشا قومی تحریک میں رواج کی شکل اختیار کرگیا۔ آسائش نمود ونمائش اور گاڑی بنگلہ کے لیے تحریک کی محدود وسائل ناکافی ہوئے تو یہاں سے قومی تحریک کا زوال ہونا شروع ہوا، اپنے زاتی آسائش آرام اور نمود و نمائش کی جگہ قومی تحریک کی مقصدیت اور قومی پروگرام کے حوالے ناپختہ کچے جہدکاروں نے چوری چکاری ،اغوا برائے تاوان ،منشیات کی لوٹ مار شروع کرکے جہدکار سے جرائم پیشہ گینگ کی شکل اختیار کرگئے۔ قومی تحریک کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کیا۔ ایسے جہدکار اپنے چوری چکاری جرائم پیشہ کارکردگی کی وجہ سے بھگت سنگھ ،جیولیس فیوچک ،عمر مختار کی جگہ پولن دیوی،پان سنگھ تومر،ڈاکو مان سنگھ ،نربھا گجر،رحمان ڈکیت ،بابالاڈلا،عزیز بلوچ،داود ابرائیم کے لقب سے پکارنے لگے ان لوگوں کی بدکرداری سے عوامی سطح پر ان کا رتبہ تبدیل ہوا۔کیونکہ سوشیالوجی کے علم میں سماجی حیثیت ایک ناموری،رتبہ اور عزت و آبرو ہے جو سماج میں کسی شخص کے ساتھ جڑا ہوا ہے یا وابستہ ہے جیسے کہ باپ ،طلبا،ٹیچر ،ڈاکٹر ،وکیل ،وغیرہ ،سماجی حیثیت کا دو طریقوں سے تعین کیا جاتا ہے ،ایک اپنا سماجی حیثیت اپنے کارنامہ اور کارکردگی کی وجہ سے حاصل کرتا ہے جسے حاصل کی ہوئی حیثیت کہا جاتا ہے جبکہ دوسرا وہ ہے جو کسی کو ورثہ میں ملتا ہے جسکومنسوب حیثیت کہا جاتا ہے جیسا کہ بادشاہت سرداری وغیرہ جبکہ دوسرا کردار ہوتا ہے کردار منصب اور حیثیت کے عمل کا نام ہے ،آدمی جو عمل کرتا ہے اور جو کردار اسکا ہوتا ہے اسکا منصب اور حیثیت بھی اسی طرح سے بنتا ہے۔ ینگ اینڈ میک نے کہا کہ کوئی بھی آدمی ایک سماجی سیٹ اپ میں کوئی بھی کردار ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے اگر اچھی کردار ادا کرتا ہے اسکا سماج میں رتبہ منصب اور حیثیت بہتر و نامور ہوگا اگر غلط رول اور کردار ادا کریگا اسکا منصب ،رتبہ اور حیثیت خو دروانی سے خراب ہوگا ۔کیونکہ وہ اپنی سماجی منصب ،کردار اور حیثیت اپنے کارمنصب اور کردار کی وجہ سے حاصل کرتا ہے ،سرمچار جہدکار،اور قومی محافظ کا منصب، حیثیت ،رتبہ قومی پروگرام، قومی سوچ اور فکر کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔دنیا میں کسی بھی جگہ ایک قومی جہدکار کا کام سخت سے سخت ترین حالات میں اپنے کاز کے ساتھ وابستہ ہونا ہوتا ہے وہ قوم کی اچھائی و بہتری کے لیے پروگرام دے کر ہر قسم کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ سرمچار جہدکار قوم اور لوگوں کے سامنے رول ماڈل بن کر اچھے منصب اور رتبہ کامالک ہونے کے لیے اچھا کردار ادا کرتے ہیں انکی نظریہ ،قومی سوچ ،قومی پروگرام انکی بندوق کو ایک ڈاکو ،چور،مافیا،منشیات فروش اور اغوابرائے تاوان کرنے والے گینگ کے بندوق سے مختلف کرتا ہے ،انکا نظریہ سوچ ،فکر اور قومی مقصد اس بندوق بردار کو سماج میں سرمچار ،قومی محافظ اورآزادی پسند کے نام سے اسکی منصب ،حیثیت اور رتبہ کے تحت تعین کرتا ہے ،جب تک وہ سرمچار ،قومی نگہبان، محافظ اور قوم کی دفاع کرنے والی قومی سوچ و قومی پروگرام کے تحت چلتے ہوئے بھگت سنگھ،جیولیس فیوچک،عمر مختار ،ہوچی منہ کا کردار ادا کرتے ہوئے تنگی مشکلات ،مصائب، برداشت کرتے ہوئے اپنے قومی کاز کی بندوق کو قوم کے بجائے دُشمن کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ خود قوم کے لیئے رول ماڈل بنتا ہے تو اسکا منصب ،حیثیت اور رتبہ بھی عزت و احترام کے ساتھ سرمچاری اور آزادی پسند کا ہوتا ہے ۔ وہ بلوچستان کے پہاڑ ،دشت ، ریگستان جنگل میں ہو یا کردستان کے پہاڑوں میں ہو، انکا رتبہ احترام کے ساتھ ہوتا ہے لیکن جب وہی لوگ قومی پروگرام و نظریہ کے نام پر قومی بندوق کواپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کرکے چوری چکاری ،بچوں کی اغوا برائے تاوان ،منشیات کی لوٹ مار و کاروبار میں استعمال کریں تو کیا ان کی حیثیت ،رتبہ اور منصب سرمچار کا باقی رہیگا؟ یا چور،منشیات فروش،اغوا کار ،مافیا اور گینگ کا ہوگا؟ یقنیاََ ایسے لوگوں کی کام و کردار اور منصب اگر چوری ،چکاری اغوا برائے تاوان ہے تو انکا منصب، رتبہ اور حیثیت بھی چور ڈاکو اور مافیا کا ہوگا، اس لیے تو قابض دشمن بعض جہدکاروں کو جرائم پیشہ کام میں ملوث کرکے انکو کرپٹ بناکر انکی شروع میں کارمنصب، کردار ،رول کو محافظ سے ہٹاکر چوری اور کرپشن میں ملوث کرکے انکی منصب سرمچار اور قومی جہدکار سے تبدیل کرکے انکو اپنے سماج میں رسوا کردیتا ہے وہ اپنے انھی بداعمالیوں کی وجہ سرمچار سے چور ڈاکو اورمافیا بن جاتے ہیں۔ کیا ایسے قسم کے مافیا چور،ڈاکووں سے قابض دشمن کو کس طرح کا ڈر ہوتاہےکہ وہ جاکر ایک نئے ریاست کی تشکیل کرسکیں گے؟ اس سے تو قوم کو ڈر ہوتا ہے کہ وہ بندوق جو سرمچاروں نے قابض کے خلاف اٹھایا تھا اب کرپٹ اور جرائم پیشہ لوگوں کی وجہ سے اس بندوق کا رخ قابض کے بجائے اپنے قوم اور لوگوں کی طرف موڑ دیا گیا، پھر قابض کے بجائے لوگ ایسے کرپٹ اور جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور عوام انکو پھر محافظ و نجات دہندہ کی بجائے نقصان پہنچانے والا چور ،ڈاکو ،مافیا اور گینگ سمجھ کر انکی احترام کرنے کے بجائے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔بلوچ قومی تحریک جسکا سائنسی انداز میں بنیاد رکھاگیا جو ابتدا سے لیکر 2008 تک سب کے لیے ایک مثالی تحریک رہا ہیں، جس سے سندھی ،پشتون ،مہاجر اور باقی لوگ متاثر ہوئے اور بی ایل اے جو مادر تنظیم رہا جس میں شہید بالاچ خان مری جیسے لوگ بھی رہ کرکام کرتے رہے۔ بی ایل اے کے سربراہ نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ تحریک کی بنیاد رکھی ان لوگوں نے اسکی بنیاد ایسی رکھی کہ یہ طاقتور دُشمن اور لوگوں کے سامنے مخفی رہ کر صرف قوم اور سرزمین کی خاطر کام کریں۔ بی ایل اے میں بقول ایک دوست کے تین دفع معاشی مشکلات پیش آئے لیکن تنظیم کے دوستوں نے دو سال تک تنگی مشکلات ،مصائب اور مصیبت برداشت کیے لیکن قومی کاز اور تحریک کو اپنے مالی مشکلات ،مصائب کی خاطر قربان نہیں کیا ،لیکن جب بلوچوں پر مشکلات آئے تو بی ایل اے کے سرمچاروں نے اپنے سامان جاکر لوگوں میں تقسیم کیے۔کسی بھی بلوچ پر کوئی بھی مشکل وقت و سختی آیا چاہے وہ جس پارٹی یا تنظیم کا رہا جب بھی اس نے حیربیار مری سے مدد مانگا تو اس نے اس مشکل حالات میں ان لوگوں کی مدد کی، اور ساتھ ہی ساتھ پھر انکو اپنی پارٹی میں بھی نہیں لیا تو دوستوں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ مشکلات اور مجبوری میں ہر کسی سے کوئی کوئی بھی کام کرواسکتا ہیں اور میں کسی پارلیمانی سیٹ کی خاطر سیاست نہیں کررہا،کہ اپنے ہی لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انھیں استعمال کروں۔نہیں میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ان میں بلوچ قومی خصوصیات بہت زیادہ ہیں اس لیے تو وہ قومی تحریک کے مستقبل کی قومی پالیسیاں بنا رہا ہے ،بلوچ قومی تحریک میں بی ایل اے نے آج تک بہت سے مشکل حالات ،مالی مصائب اور تنگی میں بھی کسی بھی طرح قوم اور دنیا کے سامنے اپنی ساکھ اور اعتبار کو خراب نہیں کیا ہے لیکن دوسری طرف توڑی سی مالی مشکلات اور مصائب یا کہ زاتی عیش و عشرت ،نمود و نمائش گاڑی بنگلہ کی خاطر مڈل کلاس تعلیم یافتہ لوگوں نے منظم مضبوط تنظیموں کو جاکر جرائم پیشہ بناکر اور انکی ساکھ اور اعتباریت کو انکی جرائم پیشہ عمل سے قوم کے اندر بہت نقصان پہنچایا ۔انھی جرائم پیشہ لوگوں نے معطل شدہ لوگوں اور باقی مڈل کلاس گروہ کی ساکھ کو تباہ کیا۔ لیکن قوم کی خوش نصیبی ہے کہ اس مشکل حالات میں قومی آزادی کی بنیاد رکھنے والی تنظیم بی ایل اے نے آج تک اپنی ساکھ اور اعتباریت پر کبھی بھی آنچ آنے نہیں دیا ،بی ایل اے کی ساکھ اور اعتباریت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ تنظیموں سے بقول ایک دوست کے پندرہ سے زیادہ کمانڈر انکی جرائم پیشہ کارکردگی کی وجہ سے نکل کر بی ایل اے میں قومی فخر اور شان سے شامل ہوئے اور حالیہ دنوں میں بھی انکے اچھے کمانڈر شامل ہوئے لیکن بی ایل اے نے انکو اپنی تنظیم میں مخفی انداز میں شامل کیا کوئی نمود نمائش شوشا نہیں کیا لیکن دوسری طرف جرائم پیشہ تنظیم کی ساکھ اور اعتباریت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاتا ہے کہ پوری قوم اور دنیا کے سامنے بی ایل اے نے اپنے دو کمانڈر معطل کیے لیکن جرائم پیشہ تنظیم کی خراب اور تباہ کن ساکھ کی وجہ سے ان معطل شدہ لوگوں نے اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے بھی شرم اور ندامت محسوس کیا ،پھر جرائم پیشہ اور معطل شدہ لوگوں نے مصنوعی اور بناوٹی اتحاد تمام تنظیموں سے بنانے کا شوشا کیا لیکن صرف بی ایل اے نے اس مصنوعی اور بناوٹی اتحاد اور یکجہتی سے دور رہ کر اپنی ساکھ اور اعتباریت کو مزید مضبوط کیا ،کیونکہ جرائم پیشہ تنظیموں اور معطل شدہ لوگوں کی جرائم و ناجائز طاقت کے استعمال کو پھر اپنے قوم اور لوگوں کے سامنے جھوٹ و دھوکہ دہی سے جوسف گوبلز کا ریکارڈ توڑنے والی جرائم پیشہ تنظیموں کے کارنامہ خود انکے اپنے ہی ثالث کمیٹی کے زریعے سامنے آئی، جس نے انکی حقیقت مزید واضع کردی ،بہت سے بلوچ قبضہ گیریت کے دوران قابض دشمن کا مزاج اپنائے ، کیونکہ بلوچ ستر سالوں سے قابض کے ساتھ رہے ان لوگوں نے بھی انکے قومی خصوصیات سے متاثر ہوکر جوڑ توڑی اور پارلیمانی طرز کی سیاست شروع کی حالانکہ پارلیمانی سیاست میں جوڑ توڑ ،منافقت دروغ گوئی ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کوپارلیمانی سیٹیں جیتنے کیلئے یکجا کیا جاسکے لیکن قومی ریاست کی تشکیل کے لیے اپنی قومی پہچان ،قومی ریاست قومی کلچر قومی خصوصیات کو زندہ رکھ کر جدوجہدکیا جاتا ہے جہاں جدوجہد میں پارلیمانی سیاست کی طرح کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہاں جدوجہد کا فارمولہ پارلیمانی جوڑ توڑی اور گھٹیا طرز سیاست سے کلیتاََمختلف ہوتا ہے یہاں پر قوم اور دنیا میں اپنی ساکھ اور اعتباریت کو قائم رکھنا ہی جدوجہد کی کامیابی کاضامن سمجھاجاتا ہے اس لیے جرائم پیشہ تنظیموں میں قومی کاز سے مخلص اور اچھے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اور ان لوگوں نے اپنے گھر ،ماں باپ سب کچھ چھوڑ کر تحریک میں شامل ہوئے تاکہ قومی جدوجہدکامیاب ہوسکے ، انکی قومی ذمداری بنتی ہے کہ وہ کوشش کریں اپنے تنظیموں کی ساکھ کے ساتھ ساتھ قومی تحریک کی ساکھ کو تباہ ہونے سے بچائیں اور چند کمانڈروں کی جی حضوری میں جرائم پیشہ تنظیموں میں موجود مخلص جہدکار اپنی قربانیوں کے ساتھ ساتھ قوم کی قربانیوں کا نقصان نہ کریں، ورنہ پارلیمانی جوڑ توڑی اور جرائم پیشہ فارمولہ سے وہ جتنی بھی قربانیاں دیں وہ آزاد قومی ریاست کی تشکیل نہیں کرسکیں گے، بلکہ آزاد قومی ریاست کی تشکیل کے لیے جہدکاروں ،لیڈروں اور قومی تنظیموں کی ساکھ اوراعتمادیت سے قابض کے قومی خصوصیات کے بجائے اپنے اسلاف اور قومی خصوصیات کو جدوجہدکے دوران دوبارہ زندہ کرتے ہوئے بلوچیت کے تحت جدوجہد کرتے ہوئے ریاست کی بحالی کے فارمولہ اور پروگرام کے تحت کام کرنا ہوگا تب جاکر وہ قابض کامقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی الگ قومی خصوصیات کے ساتھ قابض سے ہٹ کراپنی الگ پہچان بھی کرواسکیں گے.