تحریر : سمّی بلوچ
میں لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمّی بلوچ ہوں ہم ڈسٹرکٹ آواران کے علاقے مشکے کے رہائشی ہیں میرا ایک بڑا بھائی ایک چھوٹی بہن اور ماں، جو ایک گھریلو عورت ہے. ہم ایک چھوٹی فیملی ہونے کے باوجود خوش اور اچھی زندگی گزار رہے تھے. اس لیئے اچھی اور خوش زندگی گزار رہے تھے کیونکہ ہم ایک ساتھ رہ رہے تھے.
مجھے وہ لمحے اب بھی یاد ہیں جب میرے ابو کوئٹہ سے گھر آئے تھے جس وقت وہ اپنے میڈیکل کی تیاریوں میں مصروف تھے. وہ ہمارے زندگی کے بہترین دن تھے. ہم بہت پر امید تھے کہ ہمارے ابو ڈاکٹر بننے جا رہے ہیں اب ہم دوسروں کی طرح پرسکون زندگی گزاریں گے. میرے والد پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر بنے اور سرکاری نوکری حاصل کر لی. انہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کام کیا، وہ زیادہ تر خضدار ہسپتال میں کام کیا. ہم ابو کے ساتھ خضدار میں رہنے لگے اور وہاں ایک نارمل اور پرسکون زندگی گزاری. بے شک وہ چند سال میری زندگی کے خوبصورت ترین سال تھے جہاں سے ہم نے بنیادی تعلیم شروع کی. چار سال گزرنے کے بعد ابو کو خضدار کے دیہی علاقے اورناچ ٹرانسفر کیا گیا اور ہم پھر اپنے آبائی علاقے مشکے چلے گئے.
میرے ابو ہمیشہ سے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دیتے تھے وہ ایک ایماندار اور محنتی ڈاکٹر تھے ابو کا پیشہ ان کیلئے بہترین پیشہ تھا کیونکہ وہ اپنے پیشہ کی توسط سے اپنی قوم کی دن رات خدمت کر رہے تھے اور یہی میرے ابو کا سپنا تھا.
2009 کو جب میں 4th جماعت میں تھی تو مجھے گلے میں انفیکشن ہوا تو ابو مجھے علاج کیلئے کوئٹہ لے گئے اور میرے گلے کا آپریشن ہوا میری علاج جاری تھی کہ ابو کو اورناچ سے کسی دوست کا کال موصول ہوا جہاں اُنہیں کسی ضروری کام سے واپس آنے کو کہا گیا تو ابو اگلے دن اورناچ اپنے ڈیوٹی پر چلے گئے انہوں نے ہمیں کہا کہ وہ جلدی واپس آ جائیں گے کیونکہ میں ہسپتال میں داخل تھی.
اگلی صبح یعنی اٹھائیس جون 2009 پانچ بجے میرے چچا کو خضدار ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایک کال موصول ہوا جس میں انہوں نے اطلاع دی کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو اورناچ ہسپتال سے جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا ہے اس خبر نے ہمیں شدید تذبذب اور حیران کر دیا اور ہم پریشان ہو گئے کہ اب اپنے ابو کیلئے کیا کریں.
میرے اکلوتے بھائی اور چچا نے اورناچ جاکر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروایا، ہم نے کورٹ جاکر پٹیشن دائر کئے اپنے ابو کی جبری گمشدگی کے حوالے سے. ہم نے کوئٹہ سمیت کراچی میں پریس کانفرنسوں اور احتجاج کا انعقاد کیا تاکہ اپنے ابو کو بحفاظت بازیاب کیا جا سکے.
انہی سالوں میں مختلف سرکاری افسروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ ہمارے ابو کے اغوا کے خلاف ایکشن لیں اور ان کے کیس پر تحقیقات کریں. بار بار کورٹ کے دروازوں کو دستک دینے کے بعد آخر کار میرے ابو کے کیس کی سنوائی کیلئے تاریخ دیا گیا ہم نہی امیدیں لیکر کورٹ گئے کہ ہمیں ابو کے حوالے سے کچھ معلومات دیے جائیں گے مگر ہمیں ہر بار مایوس ہونا پڑا.
آخر کار میں اپنی چھوٹی بہن کو لے کر لاپتہ بلوچوں کیلئے قائم کیے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھ گئی جو 2009 سے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے کام کر رہا ہے. ہم نے تین مرتبہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھی مظاہرے کئے ہم نے سپریم کورٹ میں اپنے ابو اور باقی لاپتہ بلوچوں کا کیس پیش کیا جسٹس جاوید اقبال نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ دس دنوں کے اندر،اندر آپ لوگوں کے پیاروں کو بازیاب کیا جائے گا ہم نے دس دنوں تک صبر کیا مگر وہ دس دن دس سال ہوگئے اب تک میرے ابو بازیاب نہیں ہوئے ہیں.
باقی لواحقین کے ہمراہ تین ہزار کلومیٹر کوئٹہ سے کراچی پھر اسلام آباد مارچ کیا دوران مارچ ہمیں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا مگر کسی نے بھی ہمیں رسپانس نہیں دیا آخر کار ملک کے دارالحکومت میں بیٹھے افسروں سے بھی ناامید ہو کر واپس آ گئے.
ہر سال اپنے والد کے گمشدگی والے دن کوئٹہ سمیت کراچی میں اپنے ابو کی بحفاظت بازیابی کیلئے احتجاج کرتے رہے، ہم نے اپنی ابو کی بازیابی کیلئے ہر طرح کی کوششیں کیں اپنا رنگین بچپن احتجاجوں میں گزارا اور اپنے تعلیم کو بھی شدید متاثر ہوتے ہوئے دیکھا اور تب سے ہم اپنی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے. ہمارے گھر کو چلانے والے میرے ابو ہی تھے اُن کی جبری گمشدگی کے بعد ہم شدید معاشی بحران کا شکار ہیں ہمارا صرف ایک گھر تھا جو پاکستانی فورسز نے لوٹ مار کے بعد قبضہ کر لیا اب ہمیں رہنے کیلئے جگہ بھی نہیں ہے میری امی ان اذیتوں میں مختلف امراض کا شکار ہو چکی ہیں ہماری ساری زندگی ابو کی انتظار میں گزر گئی ان دس سالوں میں ہم مختلف ذہنی اذیتوں سے گزرتے رہے ہیں کہ ہمارے ابو کس طرح سے اذیت والی زندگی گزار رہے ہیں اور ہمیں ان کی زندگی کے حوالے سے خدشات ہیں، ان کی گمشدگی کے بعد ہمیں آج تک یہ پتہ نہیں کہ آیا ہمارے ابو زندہ ہیں یا انہیں قتل کیا جا چکا ہے. اُن گزرے ہوئے اذیت ناک لمحات کو میں بیان نہیں کر سکتا.
جب بھی کوئی جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کی نیوز آتی ہے تو ہم پُرامید ہو جاتے ہیں کہ انہی کی طرح ہمارے ابو بھی ہو سکتا ہے بازیاب ہو جائیں.
جب بلوچستان سے اجتماعی لاشیں ملتی ہیں تو ہم بے چین ہو جاتے ہیں دس سال گزرنے کے باوجود ہمیں آج تک پتہ نہیں کہ ہمارے ابو کہاں ہیں اور کیسے ہیں، اگر میرے ابو کسی غیر قانونی عمل میں ملوث رہے ہیں تو دس سال تک اذیت ناک قید ان کے لیے کافی ہے.
ایک بار پھر ہم اُن اختیار داروں سے التماس کرتے ہیں کہ میرے ابو کو منظر عام پر لاکر کورٹ میں پیش کریں یا ہمیں یہ بتائیں کہ وہ کہاں، اور کس حال میں ہیں. میرے ابو کی جبری گمشدگی نہ صرف اُنکے لیے اذیت ناک ہے بلکہ ساری فیملی شدید کرب سے دوچار ہے. ہماری زندگی اُس وقت تک پُر سکون نہیں ہوگی جب تک ہمارے ابو واپس نہیں آتے اور ہماری جدوجہد ابو کی بازیابی تک جاری رہے گی.
میں اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے، ایشیائی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دوسری انسانی حقوق کی اداروں، بلوچستان سمیت پاکستان میں موجود انسانیت دوست ڈاکٹروں سے التماس کرتی ہوں کہ میرے ابو کی بازیابی کیلئے ہماری آواز بنیں.
یہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کا مسئلہ ہے ہر کسی کو بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر اپنا کردار ادا کریں. لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان سمیت پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے آواز اٹھانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ آپکی خاموشی ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے.
نوٹ : (یہ مضمون ‘حال احوال’ کیلئے انگلش میں لکھی گئی ہے جسے ھمگام قارعین کیلئے ادارہ نے اردو میں ترجمہ کیا )















