ذرا سوچئیے ۔…….تحریر ساکا خان بلوچ
بُری باتوں سے اتنے اکتا گئے ہیں کہ اب اچهی خبروں سے بهی خوف آنے لگتا ہے…… پچهلے دنوں شہید عبدالغفار لانگو کے اکلوتے صاحبزادے ناصر لانگو کا قابض دشمن کے ہاتهوں اغواء و لاپتہ ہونے کی خبر سُن کر اُنکے واپسی کیلیے غیر یقینی کی حد تک مایوسی ہوئی…. کیونکہ قابض دشمن کا اِس خاندان کے ساته دہاہیوں کی دشمنی چلتی آ رہی ہے…
شہید مجید جان اول نے قوم و وطن کے سر بلندی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر اپنے خاندان میں سرفروشی کی جو بنیاد ڈالی اُس روایت کو برقرار رکهتے ہوئے شہید عبدالغفار لانگو اور شہید مجید جان ثانی نے اپنی لہو سے وطن کی پیاس بُجها دی ….
اور انشالله عظیم شهدا کے ورثا اور سچے وطن زادے لازوال قربانیوں کا یہ سلسلہ قوم و وطن کی آزادی تک جاری رکهیں گے…
لیکن رواں تحریک میں ایسے عناصر بهی موجود ہیں. جو دانستہ و غیر دانستہ طور پر قومی تحریک کو بار بار ناکامی و پسپائی کی طرف دهکیلتے جا رہے ہیں…
اِس بارے میں اتنا زیاده لکها جا چکا ہے اور لکها جا رہا ہے. کہ اس پر اب مزید لکهنے کی گنجائش باقی نہیں رہی… قوم کے پڑهے لکهے اور سیاسی سوج بوج رکهنے والے لوگ اچهی طرح سے واقف ہیں. کہ کمزوری، کوتائی، غیر سنجیدگی اور غیر زمےداری کا مظاہره کن عناصر کیطرف سے کیجا رہی ہے…
اور اب اِس بات میں بهی کوئ شک و گُمان باقی نہیں کہ بلوچ قومی تحریک دو واضح سوچ و نظریے میں تقسیم ہو کر ره گئی ہے. اس منقسم و متفرق نظریے سے ثابت ہوتی ہے. کہ کچه لوگ اب محض شهداء کی قربانیوں کو ڈهال بناکر تحریک میں گزر بسر کی حد تک چلنا چاہتے ہیں. اور اپنی ہر خطا و گناه کو قربانیوں کے پیچهے چهپا کر انتہائی سادگی و معصومی کیساته اپنے معصوم و ساده قوم کی آنکهوں میں دهول جهونک رہے ہیں….اسی نظریے اور طرز_حکمت عملی کے جهد کار عموماً شارٹ کٹ اور فرار کے راستے کے متلاشی ہوتے ہیں…اور کوشش کرتے ہیں کہ اُنکے فرار اور غلط راستے کو بهی قانونی جواز مل جائے. تاکہ وه جیسے بهی ہو یا جہاں بهی ہو اُنکی عزت و شہرت میں کوئ کمی نہ آجائے . اور یہ وہی جهدکار ہیں جو کهٹن مسافت کے دوران تهک ہار کر بالآخر گمنامی میں چلے جاتے ہیں یا برائے راست دشمن کے ہاته لگ جاتے ہیں…
یہاں ہم کسی تنظیم کا نام اس لیے لینا نہیں چاہتے کہ آزادی کی اِس جنگ میں سب کی قربانیاں برابر ہیں..لیکن یہ بات بهی اب کسی سے ڈهکی چهپی نہیں رہی کہ ایک آده تنظیم کی قیادت اِس وقت ایسے ہاتهوں میں ہیں کہ انکی قیادت کی نا اہلی کا جادو سر چڑه کر بول رہی ہے. اور انہی نا اہل و نا لاہق قیادت کی دانستہ و غیر دانستہ غلطیوں کے سبب تنظیم بدنام ہوچکے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں….
اب یہ کام اُن مخلص، ایماندار، سّچے اور دیانتدار دوستوں کی زمے داری ہے کہ وه اپنے قائدین کو رائے راست لانے کیلیے دباؤ بڑها دیں. یا اُن تنظیموں میں جاکر فرائض انجام دیں جو اِس وقت کسی مجرمانہ کردار اور رد انقلابی الزامات سے بچتے بچاتے آگے بڑه رہے…. کیونکہ اِس بات کی سب کو علم ہے یا علم ہونا چاہیے. کہ کوئی بهی غیرت مند بلوچ اپنے جان نثاروں اور قومی خدمت گاروں کے خلاف انگلی اُٹهانے کی جرآت نہیں کر سکتا….ضرور کوئی کوتائی ہے، کمزوری هے یا جان بوجھ کر غلطی کیجا رہی ہے. جس سے چاروں طرف شور مچائی جا رہی ہے…
دشمن اور اس کے ہمنوا و کاریندوں کو ہر ایک جانتا ہے. کہ وه ہمارے تنظیموں اور سرمچاروں پر طرح طرح کے الزامات لگاتے اور ڈنکے کی چهوٹ پر مخالفت کرتے ہیں. لیکن قوم کے ہر طبقے کی طرف سے تنقید و سوالات پر کسی کو دشمن کا ایجنٹ اور قومی غدار قرار دینا قطعاً درست نہیں…
اِس غیر زمہ دارانہ روایت کو برقرار رکهنے کے بجائے اپنے دامن و گریباں پر نظر رکهنے کی ضرورت ہے…
آپ کی دشمن اتنی مکار و چالاک ہے. کہ وه ہمیشہ آپ کی غلط کاریوں اور کوتاہیوں کو دیکھنے کیلئے مسلسل تاک میں رہتی ہے. اور آپ کے ہر برے فعل کو لیکر آپ ہی کے ساده لوح قوم کے پاس لیجاتی ہے. اور آپ کی تمام کمزوری و کوتاہیوں کو ایک ایک کرکے اپنے حق اور آپ کے خلاف استعمال کرتی رہتی ہے.مگر آپ کے پاس اپنے قوم کو کنوینس کرنے کیلیے آزادی، غلامی، شهدا اور لاپتہ افراد کی کیس کے سوا کوئی نئی بات اور بہتر پالیسی بلکل نہیں..تاکہ آپ اپنی قوم کو اپنے ساته رکهنے اور دشمن کے پاس جانے سے روک سکیں…
دشمن ہر سال دو سال بعد اپنی حکمت عملی بدلتی جا رہی ہے. اور بلوچ قوم کو آپ سے بدظن و بد اعتماد کرنے کیلیے بتدریج کوششوں میں لگی ہوئی ہے. جو ایک حد تک کامیابی بهی حاصل کر چکی ہے…مگر آپ ابهی تک وہی بهڑک بازی و شو بازی سے باہر نہیں نکلے. اب بهی وہی سناہیپر وہی خود کار کی نمود و نمائش جاری ہے.
اب بہت کچه بدلنے اور بدلانے کی ضرورت ہے. اگر تمام آزادی پسندوں کا مقصد و مطلب بلوچستان کی آزادی ہے. تو آزادی کے سامنے تنظیم، شخصیت،افراد، مفادات و مراعات کوئی حیثیت و اہمیت نہیں رکهتے . نام و مقام اور عزت و شہرت بهی آزادی کے مقابلے میں بہت چهوٹے پڑ جاتے ہیں…مگر بد قسمتی سے ہمارے اتحاد و اتفاق کی راه میں ہمیشہ شخصیت، تنظیم اور دستار آڑے آجاتے ہیں. جو ہماری کم علمی و کم ماہیگی اور لاشعوری و غیر پختگی کی پرده فاش کرنے کے ساته ساته دشمن کے پروپیگنڈوں کو بهی سچ ثابت کر دیتے ہیں…
وه لیڈر شپ کبهی بهی آزادی کی جنگ نہیں جیت سکتی جس کو قدم قدم پر اپنے نام و مقام کی فکر ہوتی ہے…بلکہ آزادی جیسے عظیم مقصد کیلیے لیڈر ہمیشہ اپنی زات کی نفی اور مقصد کو مقدم رکهتی ہے…سچ پوچهو تو مجهے اِس قسم کے لیڈر شپ پر افسوس اور رونے سے زیاده ہنسی آجاتی ہے…
اگر مجھ جیسے ایک جاہل و کم عقل انسان کے ایسے احساسات ہیں. تو آپ اندازه لگاہیں.کہ بلوچستان کے غیر جانبدار دانشوروں اور صاحب_علم و قلم حضرات کیا رائے رکهتے ہونگے ؟
اور اپنے حق میں روز لمبی چهوڑی بے سر و پا آرٹیکل اور فلسفیانہ دلائل و فضائل دینے سے نا آپ اپنی بے گنائی ثابت کر سکتے اور نا ہی قوم کی تاہید و حمایت حاصل کر سکتے ہیں ۔صرف ایک ہی چیز ہے جو آپ کی مقبولیت اور دشمن کی شکست و پسپائی کی سبب بن سکتی ہے….اور وه آپ کی کردار ….جی ہاں اگر آپ اپنے کردار کو اپنے گفتار کے عین مطابق اور قانون ، نظم و ضبط، انقلابی طریقہ_کار اور عدل و انصاف کے طابع رکهیں گے، تو دشمن کے پروپیگنڈے اور اپنوں کے سوال و تنقید کے تمام راستے بند اور بہانے دم توڈ دینگے…
اب آہیے اصل موضوع کی طرف جیسے کہ میں نے اوپر عرض کیا تها. کہ بطور بلوچ ہمیں روز اتنی بُری خبریں موصول ہوتے ہیں. کہ اب ہم ہر اچهی خبر کو بهی شک کی نگاه سے دیکهتے ہیں….اگر حقیقت بیان کیا جائے تو رواں قومی تحریک کے خوبصورت ترین ایّام 2002 سے لیکر 2008 کے زمانے میں گزرے جب اُس دور میں شہید نواب اکبر خان بگٹی، شہید بالاچ خان مری، شہید غلام محمد بلوچ سمیت سیاسی و عسکری میدان میں درجنوں قائدین موجود تهے. اُس زمانے میں بلوچ قوم کی ایک کثیر تعداد بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اِس جنگ کے حصے رہے. لیکن بڑی ادب مگر افسوس کے ساته کہنا پڑ رہا ہے. کہ 2009 سے لیکر تا دم اے تحریر تک بلوچ قومی تحریک کو جان بوجھ کر یا انجانے میں اتنی زخم پہنچائے گئے کہ ان کی مرہم پٹی کیلیے کئی سال درکار ہونگے …
اور اگر انتہائی چابک دستی اور سرعت کیساته ان زخموں کا مداوا نہیں کیا گیا تو خدا نخواستہ بلوچ شهدا اور لاپتہ فرزندوں کی قربانیاں راہیگاں جاہینگی. اور میرے منہ میں خاک مگر آزادی کی تحریک پهر کبهی سر اُٹهانے کی قابل نہیں رہیگی. اور اگر پاکستان ٹوٹ بهی جائے تو بلوچ قوم کسی اور طاقت کی غلامی میں چلی جاہیگی..
ایک بات واضح کرتا چلوں کہ بلوچ سرزمین اِس وقت تین حصوں میں تقسیم ہے ( سنده اور پنجاب میں شامل جیکب آباد، ڈیره غازیخان و کوه سلیمان زیر بحث نہیں ) جن پر پاکستان ایران اور افغانستان کا قبضہ ہے..لیکن ریاست قلات کے دور سے لیکر موجوده تحریک تک افغانستان بلوچ آزادی پسند قوتوں کی پناه گاه کی حیثیت رکهتی ہے. اس لیے اُن دوستوں کی اِس بات اور دلیل میں کوئی وزن نہیں. کہ وه ایران و پاکستان کا موازنہ افغانستان کیساته کر رہے ہیں.. کیونکہ افغانستان میں موجود بلوچ علاقوں میں نا کبهی بغاوت اور آزادی کی کوئی تحریک چلی ہے اور نا ہی وہاں کے بلوچوں کو کسی ریاستی ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. لیکن ایران اور پاکستان میں بلوچ قوم کو یکساں ریاستی ظلم و بر بریت کا سامنا ہے. سردار دوست محمد ( حاکم مغربی بلوچستان ) اور اُنکے بعد کی بغاوتوں کا سلسلہ میر داد شاه کمال سے لیکر بلوچ راجی زرمبش اور تودئی جهدکاروں تک وقتاً فوقتاً سر اُٹهاتے رہے ہیں. ایرانی شہنشاه رجیم سے لیکر موجوده بلوچ کُش مذهبی جنونی مُلاہیت تک انتہائی کمزور و محدود ہی سہی لیکن آزدای کی جهد جاری و ساری ہے…
چونکہ شیعہ خمینی و خامنائی حکمران سُنی بلوچوں کیساته مزهبی وقومی تعصب روا رکهی ہوئی ہے. اِس لیے مغربی بلوچستان کے آزادی پسند دوستوں کو اپنی عظیم مقصد کی حصول کیلیے سُنی ازم کا سہارا لینا پڑ رہا ہے. جو کہ قومی محاذ کی تشکیل کیلیے اہم ہے..
اب ایرانی گجر اور بلوچ کُش حکمران بلوچ قومی جهد و قومی بیداری کو روکنے کیلیے آزادی پسندوں کو داعش و دیگر مزهبی دہشت گرد تنظیموں سے جوڈ کر انکی مقدمے کو کمزور و مشکوک بنانے کیلیے من گهڑت پروپیگنڈے پهیلا رہی ہے. مگر همارے کچه دوست جو ایک علاقائی سازش کی شکار ہوکر مغربی بلوچستان میں گجر کیلیے پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں. اور اپنی اِس مجرمانہ فعل کو قانونی جواز فراہم کرنے کیلیے روز نئے نئے پاپڑ بیل رہے ہیں..
مخلص و ساده دل بلوچ سرمچاروں کو اپنے مالی فوائد و زاتی مفادات کی بهینٹ چڑهاکر گجر کے ہاتهوں شہید کر وا رہے ہیں. اور گجر سے بدلہ لینے اور اسکے خلاف بولنے کے بجائے. گجر حملوں کو آئی ایس آئی اور داعش و خراسان کے کھاتے میں ڈال کر سنگین جراہم کی پرده پوشی میں لگے ہوئے ہیں…اور ہر قتل و شہادت کو سرحد پار رشتے داروں کے آنے جانے کی بے شرمانہ کہانیاں بنا کر معاملات کو دفنا دیتے ہیں…
مغربی بلوچستان میں بلوچوں کی قحط نہیں کہ وه پاکستانی آئی ایس آئی ، داعش و خراسان اور دہشت گردوں کو اپنی سرزمین میں اپنے کُشت و خون سے نا روک سکیں. آپ بتاہیں کہ آپ وہاں پر کیا گل کهلا رہے ہیں؟
کیونکہ وہاں کے وه بلوچ جو قابض کے خلاف لڑ رہے ہیں آپ انکی تو مدد نہیں کر رہے. اگر آپ رشتے دار دیکهنے گئے ہیں تو اپنے سُنی رشتے داروں کی تحفظ کریں جو ہر ہفتہ ہر مہینہ زاہدان اور تہران کے چورائے پر کرین سے لهٹکائے جا رہے ہیں. مگر آپ تو اُنکو داعش و خراسان کہہ کر علی خامنائی کے ایجنڈے کی تکمیل کرنے میں لگے ہو ئے ہیں…
بہت ہوگیا…یہ قوم اب رشتے داروں کے آنے جانے کے نام پر مزید عابد، فاضل اور جہانگیروں کو اتنی سستی قیمت پر قربان کرنے کیلیے تیار نہیں…..آپ اپنا قبلہ درست کر لیں ورنہ یہ قوم آئی ایس آئی اور قدس و اطلاعات کے ایجنٹوں کے لکیر کو ختم کر دیگی…
اب کچه قابض پنجابی کی نئی پالیسیوں پر……
جوں جوں پاکستانی انتخابات کے دن قریب تر آ رہے ہیں دشمن فوج نے ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے. ضلع گوادر اور کیچ کے مختلف علاقوں سے اغواء کیے گئے لاپتہ افراد کو توقع کے برعکس رہائی دی جا رہی ہے. پچهلے صرف تمپ اور گرد و نواح میں کل پچاس کے لگ بهگ لوگ واپس اپنے گهروں کو پہنچ گئے ہیں. اور آینده دنوں میں اِس عمل میں تیزی لائی جاہیگی…
ہرچند کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور اُن کا زنده و سلامت گهر لوٹنا بڑی اچهی خبر ہے. کیونکہ قوم نے اس ضمن میں پہلے ہی اپنے جگر گوشوں کی شکل میں بہت زیاده نقصان اُٹها لی ہے…مگر انتخابات کی بازگشت سُنائی دینے کے بعد حیران کن حد تک لاپتہ افراد بازیاب ہو رہے ہیں.
پاکستانی فوج اور ایجنسیاں تو برملا کہتے رہے ہیں. کہ انکے پاس کوئی لاپتہ افراد نہیں اور نہ ہی بلوچ نو جوانوں کے اغواء میں اُنکا ہاته ہے…تو پهر یہ لوگ کہاں اور کیسے واپس آ رہے ہیں ؟؟
الله کرے کہ پاکستانی عقوبت خانوں اور اذیت گاہوں میں بند سارے جوان، بوڑهے ، بهائی بہن بچے اپنے گهروں میں واپس آہیں….لیکن ایجنسیوں کے ہاتهوں رہا ہونے والے لوگوں پر نظر رکهنے کی بهی ضرورت ہے. کیونکہ کہا جاتا ہے. کہ جن لوگوں کو رہائی دی یا دلوائی جاتی ہے. تو اُنکو فوج کی طرف سے زمے داریاں بهی سونپی جاتی ہیں. اُنکو کونٹیکٹ نمبر دیئے جاتے ہیں. اور پاکستان کی جبری وفاداری اور تعاون کی حلف لی جاتی ہے….
ہمیں یقین ہیے کہ مضبوط اعصاب کے مالک دوست رہائی پانے کے بعد شاید اپنی سیاسی و عسکری سرگرمیاں معطل کر دیں. مگر وه فوج کے هم پلہ و ہمنوا نہیں بن سکتے. مگر مجھ جیسے کمزور دل انسان، بک جائے، جهک جائے یا کسی لالچ و مراعات کی خاطر استعمال ہو جائے…..
گمان ہے کہ آنے والے دنوں میں گوادر، پنجگور، کیچ ، اواران اور خضدار میں گرفتار و لاپتہ افراد کی ایک اچهی تعداد اپنے اپنے گهروں میں لوٹ آہیگی….کیونکہ انتخابی امیدواران اور ایجنسیوں کے درمیان ایک ڈاکٹرائن پر کام جاری ہے..
امیدواروں کو ووٹ حاصل کرنے اور جتوانے کیلیے ایجنسیوں کی تعاون کی ضرورت ہے. اور ایجنسیوں اور فوج کو ایک با اثر عوامی حکومت کے قیام کی اشد ضرورت ہے…
ایسے میں B A p کی ( باپ ) ظہور، متحده مجلس عمل کی فعالیت اور بی این پی عوامی کو متحرک کرنے جیسے شوائد ایک نئی حکومت کی علامت ہیں..
شُنید میں آ رہی ہے. کہ بی این پی عوامی کے دو سابق وزراء اور ایک بلوچ عسکری تنظیم کے قائدین کے درمیان ایک فارمولہ بهی طے ہونے والی ہے..
یاد رہے بی این پی عوامی کے مشرف دور کے انتخابات اور اُنکے حکومت پر بلوچ عسکری تنظیموں کے تعلقات بہت زیاده خراب نہیں تهے. وہی تعلقات کو دوباره استعمال کرنے اور آینده مزکوره دو وزراء سے بات چیت کے عمل کو بهی رد نہیں کیا جا سکتا…
بلوچ لبریشن آرمی جو اس وقت ایک آزمائشی دور سے گزر رہی ہے. جسکی قوت کی مرکز بولان، جهالاوان اور کوہلو کاہان سمجها جاتا ہے. اِس نئے مرحلے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے. اس بارے میں کچه کہنا قبل از وقت ہے. لیکن بیرونی ممالک میں حیر بیار مری کو ہی ایک سخت گیر اور قوائد و ضوابط کی پابند آزادی پسند لیڈر کی نظر سے جانا جاتا ہے. وه اِس آزمائشی دور میں اپنی قیادت، اور منتشر سیاسی و عسکری قوتوں کو یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کر سکے گی یا نہیں یہ فیصلہ بهی وقت پر چهوڑتے ہیں. کیونکہ ہم نے ابهی تک وقت کو اپنی مرضی اور منشاء کے چلانے اور وقت کو اپنے پابند بنانے کے بجائے وقت کے ساته چلنے اور وقت کو اپنی مقدر و قسمت کا مالک بنانا سیکها ہیں ….(نوٹ ساکا خان بلوچ کی یہ تحریر یکم اپریل 2018 کو اپنے فیسبک آئی ڈی پر شائع کی گئی تھی،لیکن بعض آذادی پسند سیاسی کارکنوں کے اصرار پر اسے وقت و حالات کی مناسبت سے ھمگام نے دوبارہ شائع کیا)















