ہمگام نیوز:
آج طویل عرصے بعدکچھ کہنے اور قلم بند کرنے کی جرّات کررہا ہوں۔ ابھی جو میں اس وقت یہ خط لکھ رہا ہوں خود کو زندہ نہیں بلکہ ایک نالائق اور نابود انسان سمجھ رہا ہوں کیونکہ جہاں کبھی بلوچستان کی ان گلیوں اور شہر بازاروں میں آزادی کے نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا آج دشمن ریاست کی بربریت اپنی جگہ یہ گلیاں اتنی ویران ہوچکی ہیں کہ جہاں ضمیر کبھی کبھی خود کشی کا فیصلہ کرتا ہے تو کبھی یہ سوچ کر مطمن ہوتاہے کہ آج نہیں تو کل ہم پھر کسی نہ کسی طریقے سے ابھر کر ان گلیوں کو سجائیں گے۔
میرے عظیم رہنماؤ! اس وقت میری آنکھوں میں آنسو ضرور آرہے ہیں اُن دوستوں کو یاد کرتے ہوئے جنہوں نے ان گلیوں میں آزاد بلوچستان کے مشن کو زندہ اور پائندہ رکھاتھا۔
میں اس بات سے قطعاً انکاری نہیں کہ اب دشمن کی بربریت ایک واضح حد تک بڑھ چکی ہے، دشمن نے پہلے کے مقابلے میں اب ہر جگہ اور ہر علاقے میں اپنے کرائے کے ڈیتھ اسکواڈ اور گماشتے منظم انداز میں تشکیل دئیے ہیں تاکہ وہ بلوچ معاشرے میں رہ کر اس کا حصہ بنتے ہوئے بلوچ قومی تحریک آزادی کو اندر سے ہی ایک لائحہ عمل کے تحت کمزور کرسکیں، مگر سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا ہمارے رہنماء اس بات کا ادراک کرنے اور اس کی تیاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام تھے کہ وہ اس بنیادی نقطے کو ہی سمجھ سکیں کہ آزادی کی جنگیں اور قومی تشکیل و ریاستی تشکیل کوئی آسان کام نہیں بلکہ ایک جہد مسلسل، ایک لمبے سفر کا نام ہے جہاں جنگ، سیاسی و جمہوری جدوجہد، سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنے آنے والی نسل کی تیاری جیسے انتہائی اہم معاملات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، ان تمام مراحل سے گزر کر ہی کوئی جدوجہد اپنی منزل تک پہنچ پاتا ہے؟
لیکن دوستو! اگر ہماری جدوجہد میں کچھ کمیاں، کمزوری و کوتاہیاں تھیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اب بلوچستان میں سیاست ہی کو خیرآباد کہہ دینا ہے بلکہ اس وقت دنیا اور خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی حالات کے ساتھ ہمیں بھی اپنی نئی سیاسی اسٹریٹجی اور ایک نئی بنیاد کےساتھ قوم کو متحد کرنا ہے۔
کمزوریاں، غلطیاں اور کوتاہیاں ہر عمل اور جدوجہد میں ہوسکتی ہیں لیکن یہاں پھر سے ایک سوال سر اٹھاتا ہے کہ جو ہوا سو ہوا، کیا اب ہم اپنے ارد گرد اور خطے و دنیا کے حالات سے واقفیت رکھتے ہوئے یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ہماری قومی ضروریات کیا ہیں اور ہم ان ضروریات کو کس طرح سے ایک قابل عمل سانچے میں ڈھال کر قومی جدوجہد کو منزل کی جانب بڑھا سکتے ہیں؟
اگر زمینی حقائق اور ہمارے سیاسی رویوں کو دیکھا اور پرکھا جائے تو مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا اور تمام پڑھنے والوں کو ماننا پڑے گا کہ ہمارے رویے اس بات کی کوئی یقین دھانی نہیں کراتے کہ ہم اپنے منفی اور عدم برداشت والی سوچ سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹے ہیں تاکہ قومی مقصد کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔
اگر اس کو مختصر انداز میں پیش کرنا چاہوں تو ان الفاظ کا استعمال ہمارے خدوخال بیان کرنے کے لئے کافی ہیں کہ “وہی رفتار بے ڈھنگی جو کل بھی تھی وہ اب بھی ہے“۔
بلوچستان میں ایسے کوئی بھی قبرستان نہیں جہاں بلوچ شہدا کی قبریں موجود نہ ہوں، ایسا کوئی خاندان و گھرانہ نہیں جہاں سے قومی آزادی و مقصد کی خاطر اپنے پیاروں کے جسد سپرد گلزمین نہ کئے گئے ہوں، اسی طرح ایسا کوئی علاقہ، خاندان و گھرانہ نہیں جن کے پیارے دشمن کی اذیت خانوں میں انسانیت سوز تشدد برداشت نہ کررہے ہوں۔ ایسا کیوں ہے کا ایک آسان اور سادہ سا جواب ہے کہ ان تمام قوم کے سپوتوں اور فرزندوں نے ایک آزاد وطن کا خواب آنکھوں میں سجایا تھا۔ ایسے آزاد وطن کا خواب جہاں انصاف، جمہوریت، برابری، معاشی خود کفیلی، تعلیم، صحت اور خوشحالی سب کو گھر کی دہلیز پر دستیاب ہو۔
ایک ایسے آزاد وطن کا خواب جہاں کسی کو کسی کے آگے سر نہ جھکانے کی ضرورت ہو، لیکن دکھ اور افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے رویوں کی وجہ سے قوم اپنی غلامی کی زندگی سے سمجھوتے کی طرف جاتی نظر آرہی ہے۔ وہی پارلیمانی گماشتہ سیاسی جماعتیں جن کو کسی بھی شہر میں ایک عوامی اجتماع کی گنجائش نہیں تھی، وہ اس پوزیشن میں بھی نہیں تھیں کہ اپنے خاندان کے علاوہ کوئی دیگر دس لوگ بھی شامل کرسکیں۔ 14 اگست کے منحوس دن کو بلوچستان کے تمام شہروں میں عوام رضا کارانہ طور پر اپنا کاروبار اور دیگر مصروفیات زندگی ترک کرکے اپنے گھروں میں بیٹھتے تھے جس سے اپنے دشمن پاکستان سے نفرت کا ایک جاندار پیغام پہنچتا تھا مگر ایسا کیا ہوا کہ بلوچستان کے تمام شہروں میں اب اس منحوس دن یکجہتی کی لمبی لمبی ریلیاں نکلتی ہیں، بڑے بڑے اجتماعات کا انعقاد ہوتا ہے؟ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ سیاسی طور پر گراونڈ میں خود کو زندہ اور توانائی کے ساتھ مظبوط پاتے اور جدوجہد پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوتی، لیکن آج ہم کہاں کھڑے ہیں شاید آپ سب کو اس بات کا بخوبی علم ہو۔ بلوچ قوم بلوچ قومی تحریک کو یورپ کی گلیوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی گلی اور کوچوں میں دیکھنا چاہتی ہے۔ آج بلوچستان میں جو صورت حال ہے کیا آپ کو علم ہے؟ کیا آپ اس سخت صورت حال میں قوم کے ساتھ کھڑے ہیں؟ جی ہاں اگر ہیں تو بس چند اخباری بیانات تک محدود ہیں۔ اگر اس پر سوال ہو اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری عوامی حمایت میں کمی ہے جس پر میں اس خط میں آگے تحریر کرکے آپ کی توجہ اس جانب مبزول کرانے کی کوشش کروں گا۔
،دوستو! کیا آپ کو معلوم ہے اس وقت قوم نیشنل پارٹی، بی این پی، باپ اور دیگر پارلیمانی گماشتہ پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہے جنہوں نے بلوچ نوجوان کو پھر سے مراعات کے پیچھے لگانا شروع کردیا ہے، ایک دفعہ پھر سے بلوچ نوجوان نوکری، ٹھیکہ اور ایم پی اے ہاسٹل میں کچھ دن کے لئے ایک کمرے کے پیچھے لگ گئے ہیں۔
جہاں ایک طرف یہ بلوچ طلبہ کو بیوقوف بنا کر قومی مقصد سے دور کررہے ہیں تو دوسری طرف بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں میں اپنی جھوٹی سیاست کے ذریعے پاکستانی گندی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں، نتیجتاً اس تمام صورتحال کے کیا نتائج نکلیں گے وہ ہم سب بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ شروعات میں جو اُبھار آئی وہ ایک یقین اور امید کی وجہ سے آئی، وہ امید اور یقین آپ کی ایکتا اور یکجہتی سے قوم کو ملی کیونکہ قومی طاقت اکھٹی تھی، یک مشت تھی، نا شہید غلام محمد الگ تھا نہ شہید شیر محمد، دونوں عظیم شہدا ایک ہی راہ کے مسافر تھے دو الگ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور ایک دوسرے کے دست و بازو تھے۔ شہید نواب اکبر خان بگٹی اپنی ضعیف صحت مگر عظیم حوصلے کے ساتھ براہمدگ اور شہید بالاچ کے ساتھ ایک ہی مورچے سے دشمن پر حملہ آور تھے، حیربیار مری بیرونی دنیا میں بلوچ قوم کی متفقہ نمائندگی کرتے تھے بلوچ قوم کی ایک ہی آواز تھی “پاکستان و ایران کی غلامی سے آزادی” مگر پھر ایک ایسا دور آیا کہ بی این ایم صرف بی این ایم بنا، بی آر پی صرف بی آر پی رہ گیا، حیربیار بلوچ قوم کی نمائندگی کی بجائے فری بلوچستان موومنٹ کی نمائندگی کرنے لگے، بلوچستان پر قابض دوسرا ملک ایران دوست بن گیااور حیران کُن انداز میں آزادی کے جنگجوؤں کی پناہ گاہ بھی بنا۔ اس کے بعد ایک اور خطرناک دور آیا جب تنظیمیں تھوڑی جانے لگیں اور تھوڑنے والوں کی آؤ بھگت ہونے لگی، ان کو بڑی گرم جوشی سے پناہ فراہم کی گئی ان کو ہیرو بنانے کی ایسی کوششیں ہوئیں جیسے وہ دشمن فوج سے بغاوت کرکے ہماری فوج میں شامل ہوئے ہوں ناکہ اپنی ہی تنظیمیں تھوڈ کر آئے ہوں۔
میرے عظیم رہنماؤ، ریاست نے ان نام نہاد گماشتہ سیاسی پارٹیوں کے ذریعے اپنی جڑیں بلوچستان میں مضبوط کرنی شروع کی ہیں اور اس میں ہماری لاپرواہی اور اپنے ارد گرد سے بے خبری کے سبب وہ کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کرچُکا ہے۔ ریاست اس وقت کے لئے اتنا ہی کررہا ہے اور کرے گا مگر اس وقت آپ کو ایک قدم آگے بھی سوچھنا چاہئیے کہ کس طرح ریاست اپنے بیانئے کی ترویج و اشاعت کی خاطر آنے والی نسل پر سرمایہ لگا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسٹرکچر تیار کی گئی جس سے اسکول و کالجز بنائے گئے اور پھر بلوچ درس و تدریس سے منسلک افراد کو نشانہ بنایا تاکہ ریاست اس سیکٹر (تعلیم)کو بھی اپنے لئے استعمال کرسکے۔ دوسرے مرحلے میں کوئٹہ میں بلوچ استاد صباء دشتیاری کو شہید کیا گیا، اس کے بعد بلوچ استاد شہید زاہد آسکانی کو گوادر میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا، تربت میں اپنی تعلیمی خدمات کی وجہ سے نام کمانے والے بلوچ استاد زاہد حسین کو دھمکیاں دیکر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، پنجگور اور کچھ علاقوں میں پرائیویٹ اسکولوں کو آگ لگادی گئی، دھمکی آمیز پمفلیٹ پھینکے گئے، ڈیلٹا اسکول کی عمارت زبردستی خالی کروائی گئی اور کئی تعمیرات پر بلڈوزرچلایا گیا تاکہ اس کے بیانیئے کی ترویج کرنے والے اسکولوں کو وہ نسل اور کھیپ میسر ہو جس پر سرمایہ کاری کرکے ریاست اپنے لئے ایک نئی شروعات کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکے۔۔
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جو میں نے تحریر کرکے آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، مگر ایسی بہت دیگر چیزیں ہیں جس سے آپ تمام سیاسی قائدین سمیت ہم عوام واقف ہیں کہ ریاست نے اس جنگ کو کس حد تک سنجیدہ لیا ہوا ہے حالانکہ یہ اعمال دشمن کی بجائے ہمیں کرنی چاہئیے تھیں کہ ہم اپنی نسل پر سرمایہ کاری کرتے اور غلامی سے نفرت کی ایک ایسی کھیپ تیار کرتے کہ وہ اس جنگ کو کبھی رکنے نہ دیتے مگر ہم نے شروعات ہی اپنے آپ سے کی اور کہا کہ پارلیمانی سیاست سے تعلق رکھنے والا ہم میں سے نہیں، مذہبی شخصیات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، سرکاری ملازم ریاست کا تنخواہ خور ہے لہٰذا وہ تو بک چُکا ہے اس سے دور رہو، منشیات فروش سے تو براہ راست جنگ ہے، وغیرہ وغیرہ۔
مجھے سو فیصد یقین ہے کہ پارلیمانی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اکثریت کے لوگ پاکستان اور اس کی غلامی سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی میں، آپ یا کوئی اور آزادی پسند بلوچ مگر اگر وہ ان کے ساتھ ہیں تو کچھ مفادات و مجبوریوں کی خاطر۔ آپ کو ان کی مجبوریاں سمجھنی چاہئیے تھیں یا ان کی معاشی ضروریات کی تکمیل کا ایک متبادل فراہم کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کو اپنا دشمن سمجھا اور اپنے آپ سے دور کردیا یوں آہستہ آہستہ آپ اس کے ساتھ تصادم تک پہنچ گئے اور آخر میں دشمنی تک بات جا پہنچی۔ کیا آپ سب کو نہیں لگتا کہ یہ غلط رویہ تھا؟ اسی طرح کرکے آپ نے آہستہ آہستہ پوری قوم کو اپنے آپ سے دور کردیا جس کا فائدہ دشمن نے بھرپور اٹھایا اور آپ کے متبادل کے طور پر آپ کے معاشرے میں گھس گیا اور اپنے گماشتوں کے ذریعے عوام کی نفسیات کے مطابق ان سے تعلقات قائم کئے یوں آپ گراؤنڈ اور سرفیس سے آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔
معزز سیاسی و مسلح قائدین!
آخر میں، میں ناچیز آپ سب سے دست بستا اپیل کرتا ہوں کہ خدارا ان چیزوں کو سمجھو، ان کمزوریوں کا ادراک کرو، بلوچ کی قومی ضروریات کے مطابق مل بیٹھو اور اپنے آپسی چھوٹے چھوٹے اختلافات حل کرو، اگر کوئی اس کام میں خلل پیدا کرے تو اس کو قوم کے سامنے لے آؤ، ڈیبیٹ کرو، قوم کو اعتماد میں لو، بیگانگی اور دوریاں ختم کرنے کی کوئی ایسی پالیسیاں سامنے لاؤ جو ہم سب کو نظر آئیں۔ فیک اور لاوارث ناموں کے ساتھ گالی گلوچ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے کوئی نتیجہ نہیں آئے گا بلکہ یہ دوری اور بد گمانی تصادم اور دشمنی کی جانب بھی جاسکتی ہے۔ حقائق قوم کے سامنے لاؤ اپنی اصل شناخت کے ساتھ تاکہ اگر آپ کی بات سچ ہے تو قوم کو اس منفی کردار کو سمجھنے میں آسانی ہو جو بلوچ قومی یکجہتی کے سامنے رکاوٹ بن رہا ہو اگر جھوٹی ہو تو آپ کو اس کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاسکے۔ کرنل قذافی کے ساتھ ہونے والے رویے اور اس کی عزت افزائی سے کوئی سبق حاصل کرو ایسا نہ ہو کہ کل خدا نخواستہ آپ کے کالے کارناموں کی وجہ سے ناکامی کی صورت میں شہداء کے وارث آپ کو بھی بلوچستان کی گلیوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر ماریں۔
وسلام
آپ سب کا خیرخواہ و خیر اندیش
محراب بلوچ















