(گذشتہ سے پیوستہ)
بیسویں صدی کو ٹیکنالوجی یا ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے اس ایک صدی میں انسان نے جتنی ترقی کی ہے اتنی پچھلے ہزاروں سالوں میں نہیں کی ہے اور ہم نے اکیسویں صدی میں قدم رکھے اکیس سال گزر چکے ہیں. اس دور جدید میں ہم گزرے ہوئے پچھلے کچھ پرانی کہانیوں کے سہارے جی رہے ہیں یا اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی کوئی ایسا معجزہ ہوجائے گا. ہاں جس طرح ہم چل رہے ہیں ہمارے ساتھ کوئی معجزہ ہی ہونا باقی ہے. اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بہت ہوشیار ہیں یا پھر امید کی کشتی پر سوار ہیں.
اس وقت پوری دنیا میں تقریباً 195 سرکاری طور پر تسلیم شدہ ممالک دنیا کے نقشے پر مل سکتے ہیں. ان ممالک میں سے کچھ کا قیام ہزاروں سال پرانا ہے تاہم دیگر ممالک کی بنیاد حال ہی میں ملی ہے اور کچھ ایسے بھی ممالک ہیں جو بلوچستان کی طرح اپنی آزادی کی کوشش میں کوشاں ہیں. انہی میں سے کردستان کے بارے میں آئے دن عالمی سطح پر خبریں ملتی رہتی ہیں. کردستان کا ذکر کرنے سے پہلے ان ممالک کے بارے میں دیکھیں گے جو پچھلے کچھ ہی دہائیوں پہلے آزاد ہوئے یا وجود میں آئے ہیں.
سلوواکیہ وسطی یورپ میں واقع ہے اور یہ جمہوریہ چیک کے ساتھ ایک سرحد مشترکہ ہے. جہاں تک 10 ویں صدی عیسوی کی بات ہے موجودہ سلوواکیا ریاست ہنگری اور بعد میں آسٹریا ہنگری کا حصہ بنا. پہلی جنگ عظیم کے بعد اس سلطنت کو تحلیل کردیا گیا. اس کے جواب میں سلوواک اور چیک نسلی گروہوں کے لوگ ایک ساتھ مل کر چیکوسلوواکیا کی قوم تشکیل دی جسے بعد میں کمیونسٹ حکمرانی کے خاتمے کے بعد تحلیل کردیا گیا. سوویت قیادت والی حکومت کے خاتمے کے بعد چیکوسلواکیہ کو دو نئے ممالک میں تقسیم کیا گیا. یکم جنوری 1993 کو سلوواکیا ایک باضابطہ آزاد ملک بن گیا. اسی دن جمہوریہ چیک بھی آزاد ہوا. آج جمہوریہ چیک اقوام متحدہ، یوروپی یونین، اقتصادی تعاون، ترقی کی تنظیم اور شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم سے تعلق رکھتا ہے.
یوگوسلاویہ سے الگ ہو کر وجود میں آنے والے ممالک کوسوو، سربیا اور مونٹینیگرو. کوسوو جزیرہ نما بلقان میں واقع ہے. اس ملک نے فروری 2008 میں سربیا سے اپنی آزادی کا دعوی کیا، حالانکہ یہ دعوی متنازعہ رہا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے 193 ممبروں میں سے 110 نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے. کوسوو کی پوری تاریخ میں اور سلطنت عثمانیہ کے تخت ایک الگ سیاسی خطہ سمجھا جاتا تھا. جب سلطنت عثمانیہ 1913 میں گر پڑی تو کوسوو مونٹی نیگرو اور سربیا کے مابین تقسیم ہوگیا. پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ تمام ممالک یوگوسلاویہ کا حصہ بنے جو 1992 تک موجود تھا. یوگوسلاویہ کے تحت کوسوو کو ایک خودمختار خطہ سمجھا جاتا تھا. آزادی کے اعلان کے بعد سے یہ ملک ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا رکن بن گیا ہے. سربیا یورپ کے وسطی اور جنوب مشرقی علاقوں کے درمیان واقع ہے اور جہاں اس کا رقبہ 29،913 مربع میل ہے. تاہم اس کے علاقے کا کل رقبہ تنازعہ کا شکار ہے کیونکہ سربیا کوسوو کی آزادی کو قبول نہیں کرتی ہے. کوسوو کو سربیا کے حصے کے طور پر شامل کرنے سے اس کا رقبہ 34،116 مربع میل تک بڑھ جاتا ہے. یہ ملک 1992 میں ایک بار یوگوسلاویہ کا حصہ بنا تھا جب تک اس کے سیاسی وجود کو تحلیل نہیں کیا گیا تھا. یوگوسلاویہ کی علیحدگی کے بعد سربیا نے مونٹینیگرو میں شمولیت اختیار کر کے ایک واحد سیاسی خطہ تشکیل دیا، اس خطے کو پہلے جمہوریہ یوگوسلاویہ کہا جاتا تھا. یہ نام جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور بعد میں اسے سربیا اور مونٹی نیگرو کے نام سے جانا جانے لگا تھا. مونٹی نیگرو نے اپنی آزادی کے حق میں ووٹ دینے کے بعد دونوں ممالک باضابطہ طور پر 3 جون 2006 کو الگ ہوگئے. مونٹینیگرو جزیرہ نما جنوب مشرقی یورپ میں واقع ہے.1992 میں یوگوسلاویہ کے تحلیل ہونے کے بعد مونٹینیگرو نے وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ کی تشکیل کے لئے سربیا میں شمولیت اختیار کی جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا. 2003 میں اس جمہوریہ نے اپنا نام بدل کر سربیا اور مونٹینیگرو رکھ دیا. مونٹینیگرو نے 23 مئی 2006 کو ریفرنڈم کے ذریعے سربیا سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب 55 فیصد سے زیادہ آبادی نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا. اس ملک نے اسی سال 3 جون کو باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا اور اسے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا.
اریٹیریا افریقہ کے ہورن کے شمالی علاقے میں واقع ہے. یہ ملک 1993 کے اپریل میں ایتھوپیا اور اریٹیریا فیڈریشن کا تقریباً 46 سال تک حصہ ہونے کے بعد باضابطہ طور پر آزاد ہوا. اس فیڈریشن سے وابستہ ہونے سے پہلے اریٹیریا پر ریاست اٹلی کی حکومت تھی اور اسے اطالوی اریٹریا کے نام سے جانا جاتا تھا. تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے دسمبر 1950 تک اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا. اریٹیریا نے 1961 سے 1991 کے درمیان 30 سال تک اس کی آزادی کی جنگ لڑی تھی.
جنوبی سوڈان مشرقی افریقہ کے وسطی خطے میں واقع ہے. یہ ملک 9 جولائی 2011 کو باضابطہ طور پر قائم ہوا جب وہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کے تنازعہ کے بعد سوڈان کے ملک سے رخصت ہوا تھا. اس باضابطہ آزادی کے باوجود جنوبی سوڈان تیل کے کچھ ذخائر کی ملکیت کے بارے میں سوڈان کے ساتھ تنازعہ میں ہے. جنوبی سوڈان کو 2013 سے شروع ہونے والے خانہ جنگی کا سامنا رہا ہے جس میں 300،000 افراد ہلاک اور 30 لاکھ بے گھر ہوگئے ہیں.
یہ وہ ممالک ہیں جو حال ہی میں آزاد ہوئے ہیں. مگر آزادی حاصل کرنے میں ناکام ممالک کو دیکھیں تو بلوچستان سمیت کردستان بھی اسی آگ میں جلتا ہوا دکھائی دیتا ہے. کردستان ایک ایسا خطہ ہے جو مشرق وسطی کے متعدد ممالک میں پھیلا ہوا ہے. کردستان کے چار اہم علاقے ہیں. جن میں شمالی کردستان جو ترکی میں ہے، جنوبی کردستان جو عراق میں ہے، مشرقی کردستان جو ایران میں ہے اور مغربی کردستان جو شام میں ہے. عراق، ایران، شام اور ترکی کی سرحدوں پر پھیلے ہوئے علاقوں میں تقریبا 35 ملین کرد آباد ہیں، اور یہ پورے مشرق وسطی کے خطے میں ان کا چوتھا سب سے بڑا نسلی طبقہ ہے. بہت ساری تعداد کے باوجود ان کی اپنی ریاست کبھی نہیں رہی تھی. کردستان کی آزادی کے مطالبے نےتب زور پکڑا جب آزاد ریاست مانگنے والوں کو کچلنے کے لیے 1988 میں عراقی حکومت نے گیس کے حملے سے 3200 افراد کا قتل عام کیا تھا. شام میں کردوں کو ان کی اپنی قومی حیثیت نہیں دینے کے لیے سخت سلوک کیا گیا ہے. ملک کی کل آبادی کا 10 فیصد پر مشتمل شامی کردوں کو شہریت جیسے بنیادی حق سے انکار کیا گیا ہے، ان کی زمین ضبط ہوچکی ہے اور اگر انہوں نے لڑائی لڑنے کی کوشش کی تو بہت سے افراد کو قتل یا جیل بھیج دیا گیا۔ ترکی کردوں کو بھی حکومت کئی دہائیوں سے الگ تھلگ کر رہی ہے اور ان کے حقوق کی جنگ میں سرحد سے باہر دوسرے کردوں کے ساتھ شامل ہونے کی کسی بھی کوشش کو زور زبردستی روکا گیا ہے. ستمبر 2017 میں عراقی کردستان نے آزادی کے بارے میں ریفرنڈم کرایا. حکومت نے اسے غیر قانونی قرار دینے کے باوجود عراق میں موجود تمام کرد عوام نے اس رائے شماری کو ووٹ دیا اور حمایت کی. تاہم کردستان کی آزاد ریاست کا قیام حقیقت سے بہت دور ہے. عراق، ایران اور ترکی کی حکومتیں اپنے وہ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس خیال کی مخالفت کرتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس سے خطے میں کبھی دخل اندازی نہیں ہوسکتی ہے. کرد عوام کے لئے ایک اور بڑا دھچکا بین الاقوامی برادری کی طرف سے حمایت اور تسلیم نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے کرد تحریک کے نمایاں رہنماؤں کی کمزوری تھی. کرد رہنماؤں کے درمیان مستقل اختلافات اور سیاسی مفادات نے بھی ایک متحدہ محاذ کے قیام کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے جو کردستان کی آزادی کے عمل کو تیز کرسکتی تھی.
جس طرح کردستان کے لوگ اپنی آزادی سے محروم ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ ان کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اور سیاسی مفادات ہیں تو ٹھیک اسی طرح ہمارے رہنماؤں کے بیچ بھی ہمیں یہی چیز دیکھنے کو ملتی ہے جو اپنے نام اور اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور انہیں نام نہاد خود غرض رہنماؤں کی نظریات کی وجہ سے پوری قوم غلامی سے باہر نکل نہیں پا رہا.
کیا نظریات کے لیے سب انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جائیں یا پھر انسانی جانوں کی خاطر اپنے نظریات چھوڑ دئیے جائیں؟
اس وقت بلوچستان کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو سہی معنوں میں دورِجدید کی مناسبت سے خود کو ان حالات میں ڈھالنا جانتا ہو اور اس دور کے حساب سے حالات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور وہ صرف اور صرف ایک ایسے حصول کیلئے کام کرنا جانتا ہو جو ہمیں کبھی ایسے حالات میں نا پہنچنے دے جس میں ابھی ہم موجود ہیں. جو بہادری کے نام پر جذباتی نہ ہو، اکثر جذباتی لوگ بہت زیادہ دیر تک اپنے فیصلوں پر ٹِک نہیں پاتے ہیں پکڑ کس لو تو گھبرا جاتے ہیں اور اگر ان لوگوں کے انہیں جذباتوں کے ساتھ پیار سے کھیلا جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ قابو میں آجاتے ہیں. جو سہی معنوں میں ایک رہبر ہو جو اپنے قوم کی رہنمائی کرے ناکہ جنگ میں مر کر شہید کہلانے کے لیے بےتاب ہو. چاہے وہ بلوچستان میں ہو یا بلوچستان سے باہر. خوش قسمتی سے ابھی ہمارے بیچ ایک ایسا شخص موجود ہے بہ شرط ہم اسے پہچان لیں اور اس کے ساتھ جڑ جائیں. اب یہ فیصلہ تو ہمیں خود کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کی زندگی چاہتے ہیں، ان نام نہاد رہنماؤں کے ساتھ چل کر جو ہمیں ہمیشہ دھوکے میں رکھ کر مزید اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں یا وہ جو ہماری زندگی میں روشنی لاسکتا ہے.
ہر کسی کی زندگی بدلنے کا ایک موقع آتا ہے شاید ہماری زندگی کا بھی یہی سنہرا موقع ہے جسے ہمیں اپنے ہاتھوں سے ہرگز جانے نہیں دینا ہوگا اور مل کر ایک ہو کر آگے بڑھنا ہوگا.
***(ختم شُد)***















