سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںفرانسیسی صدر کو تھپڑ مارنے والے شخص کو چار ماہ قید کی...

فرانسیسی صدر کو تھپڑ مارنے والے شخص کو چار ماہ قید کی سزا

پیرس (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈسک رپورٹس کے مطابق ڈیمیئن تاریل نامی اس شخص نے عدالت میں اپنا جرم قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ حرکت اچانک جذبات میں سرزد ہوئی لیکن استغاثہ نے کہا کہ یہ ’دانستہ طور پر کیا گیا تشدد تھا‘۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کو جنوب مشرقی فرانس کے سرکاری دورے کے دوران تھپڑ مارا گیا تھا۔عدالت کو بتایا گیا کہ مجرم دائیں بازو یا انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کا رکن ہے۔

جس وقت صدر میکخواں کو تھپڑ مارا گیا، اسی دوران اس شخص نے ’ڈاؤن ود میکرون ازم‘ (یعنی میکخواں کا دور ختم) کا نعرہ بھی لگایا تھا۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ منگل کے روز صدر میکخواں ویلانس شہر کے ایک علاقے میں موجود تھے جب ان کی جانب سے شہریوں کو روکنے کے لیے قائم ایک رکاوٹ کے قریب جانے پر یہ واقعہ پیش آیا۔

یہاں سبز رنگ کی شرٹ میں ملبوس ایک شہری نے انھیں تھپڑ رسید کیا اور اس کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار میکخواں کو بچانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ یہ اہلکار فرانسیسی صدر کو وہاں سے واپس کھینچ لیتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف سیاستدانوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی تھی۔

فرانسیسی وزیراعظم یان كاستيكس نے واقعے کے بعد قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ جہوریت کا مطلب بحث اور جائز اختلاف ہے لیکن ’اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تشدد، لفظی جارحیت یا جسمانی حملے کیے جائیں۔‘

اس تھپڑ کے بعد انتہائی بائیں بازوں کے سیاسی رہنما یان لوک نے ٹویٹ میں ’صدر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار‘ کیا۔

صدر میکخواں اس وقت فرانس کے ایک سرکاری دورے پر تھے جہاں انھوں نے اس علاقے میں ایک ہوٹل سکول کا جائزہ لیا تھا۔

واقعے کے بعد حکام کا کہنا تھا کہ یہ دورہ جاری رہے گا اور اس میں 25 سے 30 سال عمر کے لوگوں کے لیے ایک پیشہ ورانہ انسٹی ٹیوٹ کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا تھا جب فرانس میں بارز اور ریستورانوں کو ان ڈور ڈائننگ کے لیے سات ماہ بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز