تفتان / فاریاب (ھمگام نیوز) بلوچ مذہبی و سماجی رہنما مولوی عبدالغفار نقشبندی نے تفتان اور فاریاب میں بلوچ خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور بے حرمتی کی اطلاعات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خواتین کے وقار، عزت اور تحفظ کے حق پر زور دیا ہے۔
بدھ 17 جون 2026 کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں مولوی عبدالغفار نقشبندی نے بلوچ خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ان کی عزت و حرمت کے دفاع کے لیے بلوچ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علاقے کے قدرتی وسائل، خصوصاً سونے اور کرومائٹ کی کانوں کے حوالے سے جاری تنازعات نے حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تفتان اور فاریاب میں کان کنی کے منصوبوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مقامی شہریوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین میں شامل خواتین نے سونے اور کرومائٹ کی کانوں کی سرگرمیوں، ماحولیاتی نقصان اور مقامی آبادی کے معاشی حقوق سے متعلق خدشات کے اظہار کے لیے احتجاج کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ان واقعات کے دوران کم از کم آٹھ خواتین زخمی ہوئیں جبکہ تین خواتین اور تین مردوں کو حراست میں لیا گیا۔ بعض مقامی ذرائع نے خواتین کے ساتھ نامناسب رویے اور بے حرمتی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں پر حکام کی جانب سے کوئی تفصیلی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تفتان اور فاریاب میں حالیہ واقعات نے بلوچستان میں معدنی وسائل، مقامی حقوق اور سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے جاری بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور گرفتار افراد کی قانونی صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


