بلوچ قوم حالت جنگ میں ہے اور کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ دشمن پر کوئی حملہ نہ ہو اور ساتھ ساتھ بلوچ سرمچاروں کی شہادت کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچ آزادی کے سرمچار جنگجو دیدہ دلیری سے پاکستانی قبضے کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں اور اس عظیم قومی مقصد کے حصول کے لئے جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ابھی تک شہید آفتاب جتک اور اس کے دوستوں کی شہادت اور بہادری کی خبریں چل رہی تھیں کہ اسی دوران طارق ساسولی اور عمران ساسولی کی دشمن کے ساتھ دو بدو گھمسان کی لڑائی کے دوران شہادت کی خبر قوم تک پہنچی۔ بلوچ نوجوانوں کی روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں اس بات کو عیاں کر رہی ہے کہ اس قوم کے بہادر نوجوانوں نے قومی غلامی کی زندگی کے بجائے شہادت کے عظیم فلسفے کو اپنا لیا ہے اور جب کسی قوم نے تاریخ میں قربانی سے دریغ نہیں کی تو اسے دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہ دے سکی ہے جس کے مثالیں ہمارے سامنے ویتنام، کیوبا، بنگلادیش اور باقی دیگر ممالک کی اقوام ہیں۔
بلوچ قوم اب تاریخ کے فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے جہاں شہید طارق ساسولی اور ہزاروں سرفروشوں کے خون نوجوانوں کو دشمن کے خلاف لڑنے کا درس دے رہے ہیں۔شہید طارق اور عمران کا تعلق بلوچستان کے عظیم بہادروں کے شہر خاران سے ہے۔اور وہ خاران شہر کے کلان سے تھے۔ خاران شہر میں کلان کا علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ شہید نورالحق عرف بارگ جان کے بچپن اور لڑکپن کے ادوار کلان ہی میں گزرے تھے اور ساتھ ساتھ شہید اللّٰہ رحم کا تعلق بھی کلان سے تھا جس نے شہید اسلم کے ساتھ کلان میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہادت پائی تھی۔ اسی لیے کلان ہر وقت ریاستی ظلم اور جبر کا شکار رہا ہے اور آئے دن اس علاقے میں آپریشن ہوتے رہتے ہیں۔ کلان کی ہر گلی گلی میں شہید بارگ جان، شہید اسلم، شہید اللّٰہ راحم، شہید طارق اور شہید عمران کی قیمتی یادیں وجود رکھتی ہیں اور شہید بارگ جان نے اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے اپنے بچپن کے کلان کی یادوں کو ایک افسانے کی صورت میں لکھ کر سوشل میڈیا میں اپنے قلمی نام سے جاری کئے تھے۔ کلان کے باسی شہید طارق جان اور عمران نے بلوچ قومی آزادی کے لیے بیش بہا قربانی رقم کی ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی کا قیمتی وقت قوم کے لئے وقف کیا تھا۔ دشمن کی نیندیں ان کی وجہ سے حرام تھیں اور ان کے اوپر گلی اور کوچوں میں ان سپتوں کی بدولت پےدرپے شدت سے حملے ہو رہے تھے۔
10 جون 2021 کو خاران شہر کے علمرگ کے علاقے میں وہ دشمن کے اچانک گھیرے میں آئے تو انہوں نے بہت بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور دشمن کے کئی اہلکاروں کو جہنم رسید کیا۔آخر میں 8 گھنٹے کی طویل جھڑپ کے بعد ان کے پاس آخری گولی بچتی ہے تو وہ بزدل پاکستانی فوج کی طرح سرنڈر کرنے کے بجائے شہید شے حق، امیرالمک، ضیا جان اور بارگ جان کے نقش قدم پر چل کر اپنے آپ کو مادر وطن پر قربان کر دیتے ہیں ۔
ان کی روحیں اب اللہ راحم ، اسلم جان اور بارگ جان کے ساتھ محو گفتگو ہیں اور انہیں کلان کے لوگوں کی ہمت اور بہادری کی داستانیں سنا رہے ہوں گے۔















