تاریخی اعتبار سے اگر جنگوں کی اثرات کا دو طرفہ جائزہ لیاجائے تو جنگ تباہیوں کے ساتھ ساتھ غلام قوموں کے لئے باعث رحمت بھی ثابت ہوئی ہے جس کی بہترین مثال دوسری جنگ عظیم یا امریکہ اور روس کے مابین سرد جنگ تھا۔دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ جو تقریباً پوری دنیا پر قابض تھی انھیں دوسری جنگ عظیم کے بعد مالی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد شدید سیاسی و سماجی بحران سے دو چار ہونا پڑا ۔جس کے باعث برطانیہ میں وہ طاقت و سکت نہیں رہی کہ وہ اپنے زیر دست ریاستوں پر مزید حکمرانی برقرار رکھ سکے اس جنگ کے بعد بلا آخر غلام ریاستوں کو آزادی نصیب ہوگئی ۔
اسی طرح سرد جنگ بھی کئی ریاستوں کے لیے باعث رحمت ثابت ہوئی۔سرد جنگ نے سابقہ سوپر پاور یو ایس ایس آر کو جب معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام سے دو چار کیا اور بل آخر یو ایس ایس آر بھی 16 ٹکڑوں میں بکھر گئی ۔
حالیہ دہائی بلوچستان کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔افغانستان سے اس طرح امریکہ انخلاء بہت زیادہ شکوک وشہبات کو پیدا کر چکی ہے۔کیونکہ اب اس خطہ میں بڑی طاقتیں مد مقابل ہونے جارہی ہیں ۔امریکہ کا پاکستان سے فوجی اڈوں کا مطالبہ اور پاکستان کا تردید اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ جو کہ بلیک لسٹ سے ایک قدم کے فاصلے پر ہے اس پر برقرار رکھنا۔دوسری طرف کواڈ ممالک کے اتحاد کے بات جی 7 ممالک کی اتحاد کا اس عزم کے ساتھ کہ وہ چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے اس بات کی طرف بخوبی اشارہ کرتے ہیں کہ چین اور امریکی اتحادیوں کے مابین سرد جنگ کی اعلانیہ افتتاح ہوچکی ہے پاکستان کی اس معاشی بدحالی میں امریکہ کو انکار اس بات کی طرح بخوبی اشارہ کرتے ہیں کہ چین کو اب خطے میں امریکی موجودگی تنگ کررہی ہے جس کے باعث پاکستان اب اس حالت میں آ چکی ہے کہ وہ نہ تو امریکہ کی ناراضگی برداشت کرسکتی ہے اور نہ ہی چینی لیکن اب پاکستان کے پاس کوئی دوسرا متبادل راستہ بھی نہیں ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کو ناراض کرئے۔ دونوں صورتوں میں پاکستان کو گھاٹے کا سودا کرنا پڑے گا۔کسی کی بھی ناراضگی اس کیلئے موت و زیست کا مسئلہ بن گیا یے۔
امریکی ناراضگی کے بعد پاکستان پر جو منفی یا تباہ کن اثر پڑیگی اس سے پاکستان کا بطور ریاست سنبھلنا مشکل نظر آتا ہے ۔کیونکہ امریکی خفت کا مطلب تمام یورپی و عرب ممالک کی ناراضگی ثابت ہوسکتی ہے ۔جس سے معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار پاکستان پھر ابھر نہیں سکے گا۔خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے اس سرد جنگ کا میدان بلوچستان ہوگا ۔اور اس کے اثرات بلوچ قوم اور بلوچ ڈیموگرافی پر پڑینگی۔
امریکہ کھبی بھی نہیں چاہے گا کہ چین سنٹرل و جنوبی ایشیا یا مشرق وسطی میں اپنا اثرورسوخ پیدا کرکے سپر پاور بن جائے اور اسکے لیے امریکہ اپنا ہر وہ حربہ استعمال کرئے گا جس سے چینی توسیعی و استحصالی منصوبے غیر مستحکم ہوجائیں ۔اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو افغانستان کی حالیہ دورِ کچھ اسی طرح اشارہ کر رہی ہے۔امریکی کا افغانستان سے یوں اعتماد کے ساتھ نکلنا اور افغانستان کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑنا اس بات کی طرف بخوبی اشارہ کرتی ہےکہ امریکہ خطے کو غیر مستحکم بنا کر چین کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے تاکہ سنٹرل ایشیا میں چین کو مشکلات کا سامنے کرنا پڑے اور سنٹرل ایشیائی ممالک غیر مستحکم ہوکر اپنے آپ سے الجھ پڑیں ۔
اور دوسری طرف دنیا کی بڑے معاشی طاقتور ممالک جن میں جرمنی، فرانس، امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ وغیرہ شامل ہے ۔اس اتحاد کا بنام G7 میں امریکہ واضع الفاظوں میں بیان کر چکا ہے کہ وہ چین کی اس خطے کی سیاسی معاشی اثر رسوخ کسی صورت میں برداشت نہیں کرے گا ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ خطے میں یہ ممالک کس طرح مد مقابل ہوسکتے ہیں؟ تاریخی اعتبار سے موازنہ کیا جائے تو وہی کچھ ہونے کے امیدیں ہیں جو 1990 میں ہوا تھا ۔جس میں ایک بار پھر سنٹرل ایشیا میں مسلح مذہبی دہشتگردوں کو امریکہ استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ اس خطے میں ہر اس قوت کو عدم استحکام کا شکار بنا کر خطے میں چین کے لئے مشکلات پیدا کرے۔
جیسے اس نے روسی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں افغانستان کے ساتھ کیا تھا ۔اور اس جنگ میں روس میدان میں افغانستان کی مدد کے لئے پہنچا لیکن جب اس کو پاکستانی مذہبی جنگجوؤں اور امریکی ڈالرز نے اس قدر معاشی نقصان پہنچا چکا تھا کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔اور اس سے کئی ریاستوں نے آزادی حاصل کرلی بغیر کسی مسلح جدوجہد کے۔ اور دوسری طرف افغانستان اور یوگوسلاویہ جیسے ممالک تھے ۔جس میں افغانستان آج تک امریکہ کے ڈالری جہاد کی وجہ سے بار بار جل رہا ہے اور دوسرے طرح یوگوسلاویہ کو بالا آخر ان امریکی اتحادی افواج نے تقسیم کرنے میں سب کی افادیت سمجھی ۔
اب اگر اس سرد جنگ کی بات کریں تو خطے میں کچھ ویسا ہی ہونے والا ہے ہو سکتا ہے کچھ ممالک کیلئے یہ تبدیلی یا سرد جنگ نقصان کا باعث بنے اور ان ممالک میں لیبیا ،شام یا افغانستان کی طرح حالات پیدا ہوسکتے ہے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر یہ ممالک معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوجائیں اور یوگوسلاویہ کی طرح ان کا بھی بالقنائزیشن ہوجائے ۔ ایک طرح آنے والے وقت ان ممللک کے لیے چیلنج سے کم نہ ہوگی اور دوسری طرف آزادی کی خواہش مند سیاسی تحریکوں کے لیے بھی ایک مشکلات اور مواقعوں سے بھر پور دور آسکتا ہے۔
اب فائدہ اور نقصان کا فیصلہ حالات کے ساتھ ساتھ ان سیاسی تحریکوں کے لیڈر شپ پر بھی عاید ہوگی کہ وہ اس گھمبیر سیاسی و عالمی حالات کے پیچ و تاو میں اپنی منتشر قومی طاقت کو کیسے یکجا کرینگے اور عظیم تر قومی مفادات کا تحفظ کیسے و کس طرح کرسکیں گے۔















