Homeخبریںترکی میں اسرائیلی بزنس مین کے قتل کا ایرانی منصوبہ ناکام: ترکی...

ترکی میں اسرائیلی بزنس مین کے قتل کا ایرانی منصوبہ ناکام: ترکی اخبار کا دعوی

استنبول ( ہمگام نیوز) ترک روزنامے صباح کے مطابق ملک کی خفیہ ایجنسی (ایم آئی ٹی) نے حال ہی میں ایران کی جانب سے اسرائیلی-ترک کاروباری شخصیت یائر گیلر کے قتل کی منصوبہ بندی کا سراغ لگایا ہے جسے مبینہ طور پر اجرتی قاتلوں کی مدد سے سرانجام دیا جانا تھا۔
استنبول میں مقیم یائر گیلر نے مشین اور دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ نو افراد پر مشتمل ایک گروہ کے زیر نگرانی تھے۔
ڈیلی صباح کے مطابق ایم آئی ٹی کو معلوم ہوا کہ ایران کی خفیہ ایجنسی نے یائر گیلر کو نشانہ بنانے کے لیے ترکی میں ایک نیٹ ورک تشکیل دیا تھا۔
مبینہ طور پر وہ ایسا 2020 میں اپنے ایٹمی سائنس دان محسن فخری زادے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کرنا چاہتے تھے جنہیں ایران کے مطابق اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔
ڈیلی صباح نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایم آئی ٹی کے استنبول ریجنل ڈائریکٹوریٹ نے مہینہ بھر زیر نگرانی رکھنے کے بعد اجرتی قاتلوں کے نیٹ ورک کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
ایران کے جاسوسی نیٹ ورک نے 75 سالہ کاروباری شخصیت یائر گیلر کی حرکات و سکنات کی تصاویر بنائیں، استنبول کے ضلع کٹالکا میں قائم ان کی کمپنی کے صدر دفتر کی نگرانی کی اور بیسکٹاس میں موجود ان کے گھر کی بھی جاسوسی کی۔
اس دوران ترکی کی خفیہ ایجنسی نے گروہ کی ہر حرکت پر نظر رکھی اور یہ جان لیا کہ ایران کی خفیہ ایجنسی نے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ترک شہریوں کی خدمات لی تھیں۔
جب ایم آئی ٹی کو یقین ہو گیا کہ اب گروہ اپنا اصل مشن پورا کرنے کے قابل ہو گیا ہے تو اس نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطہ کیا اور انہیں اس سارے منصوبے سے آگاہ کر دیا۔
روزنامے کے مطابق اسرائیل اور ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کے عہدے داروں نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک خفیہ ملاقات میں فیصلہ کیا کہ گیلر کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے جہاں موساد کے اہلکار ان کی حفاظت کریں گے۔
ڈیلی صباح نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ یائر گیلر نے موساد کی آفر کو ٹھکرا دیا جس میں انہیں اپنی حفاظت کے پیش نظر اسرائیل میں بسنے کی پیش کش کی گئی تھی اور کہا کہ ’میں استنبول شہر نہیں چھوڑوں گا جس سے مجھے محبت ہے۔‘
ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد ترک خفیہ ایجنسی نے جاسوسوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ آٹھ مشتبہ افراد کو جرائم پیشہ گروہ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے اکثر کا تعلق ترکی سے تھا۔
سوائے ایک 44 سالہ ایرانی شخص کے جس کی شناخت صرف ’ایس ایم بی‘ سے ظاہر کی گئی ہے، ان پر گروہ کا سرغنہ ہونے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز