Homeخبریںخانیوال: مشتعل ہجوم کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام پر ایک ذہبی...

خانیوال: مشتعل ہجوم کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام پر ایک ذہبی مریض قتل

خانیوال(ہمگام نیوز) گذشتہ روز پنجاب کے ضلع خانیوال میں مشتعل ہجوم نے مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پنجاب کے ضلع خانیوال میں مشتعل ہجوم نے مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس نے اس واقعے میں 33 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کی جانب سے 62 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
قتل ہونے والے شخص کی شناخت ہو گئی۔
ایک صحافی کے مطابق واقعے میں قتل ہونے والے شخص کی شناخت مشتاق احمد ولد بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ قریبی گاؤں بارہ چک کے رہائشی تھے اور ان کی میت ان کے سوتیلے بھائی نے وصول کرلی ہے۔

صحافی نے مزید کہا بارہ چک کے رہائیشیوں نے بتایا ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور وہ کئی کئی دن گھر سے باہر رہتے تھے۔ ذہنی توازن درست نہ ہونے کی بنا پر ان کی اہلیہ نے بھی چار سال قبل ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور بچے بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کی سزا موت ہے جس کے باعث لوگ ذاتی فائدہ یا رنجش کی بنا پر ان قانون کا غلط استعمال کرتے رہیں ہیں –

یہ بھی پڑھیں

فیچرز