کوئٹہ ( ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا، گزشتہ تین سالوں میں 17184افرادجاں بحق جبکہ 38476 افرادزخمی ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں خستہ حال اورسنگل سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک حادثات کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ـ

جس کی وجہ سے بڑی تعدادمیں بڑی تعدادمیں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہے ہیں۔پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس کی رپورٹ کے مطابق 2018 سے2021 تک پاکستان بھرمیں 30 ہزار909 ٹریفک حادثات رونماہوئیجن میں17 ہزار 184 افرادجاں بحق جبکہ 38 ہزار 476 افراد زخمی ہوگئے ۔

رپورٹ کے مطابق تین سالوں کے دوران بلوچستان میں 1ہزار373روڈٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں934افرادلقمہ اجل بن گئے جبکہ 1757افرادزخمی ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 13.5لاکھ لوگ سڑک حادثات کے نتیجے میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں بلکہ 20سے 50لاکھ لوگ زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 30ہزار 5سو 82افراد سڑک حادثات کے نتیجے میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

جبکہ بلوچستان میں سڑک حادثات کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی تعداد 9ہزار سے زائد ہے جبکہ 27سے 30ہزار افراد سڑک حادثات کے نتیجے میں زخمی ہو کر پوری زندگی کے لئے معذور بن جاتے ہیں۔ٹریفک حادثات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بلوچستان میں دورویہ سڑکیں نہ ہوناہے جبکہ صوبے کی قومی شاہراہیں۔

جبکہ بلوچستان میں سڑک حادثات کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی تعداد 9ہزار سے زائد ہے جبکہ 27سے 30ہزار افراد سڑک حادثات کے نتیجے میں زخمی ہو کر پوری زندگی کے لئے معذور بن جاتے ہیں۔ٹریفک حادثات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بلوچستان میں دورویہ سڑکیں نہ ہوناہے جبکہ صوبے کی قومی شاہراہیں۔

انتہائی تنگ اورخستہ حال ہوگئے ہیںجوسفرکے قابل نہیں ہیں دوسری جانب ڈرائیوربھی لاپرواہی کرکے تیزرفتاری کرتے ہیں یہ ہی نہیں بڑی گاڑیوں پرسرچ لائٹیں لگائے گئے ہیں جس سے رات کے وقت مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کوسڑک نظرہی نہیں آتابیشتراوقات اوورٹیکنگ کی وجہ سے ٹریفک حادثات رونماہورہے ہیں۔صوبے میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کوممکن بنانے کیلئے افرادی قوت کی کمی کابھی سامناہے ۔

ریسکیو1122کوبھی دیگرشاہراہوں پر تعینات کیاجائے تاکہ ٹریفک حادثات کی صورت میں زخمیوں کو بروقت ابتدائی امداددے کران کی جانوں کومحفوظ بناجاسکے۔عوامی حلقوں نے حکام بالاسے مطالبہ کیا کہ موٹروے پولیس کادائرہ کارپورے صوبے میں پھیلایاجائے تاکہ گاڑیوں کی تیزرفتاری پرقابوکیاجاسکے۔