Homeخبریںامریکی حزب اختلاف کی جانب سے صدر بائیڈن کی افغانستان سے انخلا...

امریکی حزب اختلاف کی جانب سے صدر بائیڈن کی افغانستان سے انخلا کی پالیسی پر سخت تنقید۔

امریکہ(ہمگام نیوز) نیٹو افغانستان سے انخلا کے باوجود کابل کے ساتھ دیرپا شراکت اور امن عمل کے لیے اپنی مدد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں اور دوسری طرف امریکی حزب اختلاف کی جانب سے صدر بائیڈن کی افغانستان سے انخلا کی پالیسی پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پر امریکی سینیٹ میں ری پبلکن راہنما مچ میکانل نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا ہے، جو خطے کو بحران سے دوچار کر دے گا اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ امریکہ میں بعض دفاعی ماہرین بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں تاہم بائیڈن انتظامیہ پراعتماد ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد امن عمل آگے بڑھے گا۔

واشنگٹن میں حزب اختلاف بدستور صدر بائیڈن کی افغانستان سے انخلا کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ری پبلکن کے چوٹی کے راہنما مچ میکانل نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اس حکمت عملی کو غیر واضح اور خوش امیدی پر مبنی خطرناک پالیسی قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں، جب انتظامیہ سے گفت و شنید ہو رہی ہے تو یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ فیصلہ کسی ایسے مربوط منصوبے کے تحت نہیں لیا گیا، جو وہاں سے ہمارے نکلنے کے بعد پیدا ہونے والے جغرافیائی و سیاسی اور انسانی بحران سے نمٹ سکتا۔ ری پبلکن راہنما کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم وہاں سے نکل جائیں گے تو اس بات پر یقین کر لینے کی بے شمار وجوہات موجود ہیں کہ القاعدہ اپنے اس تاریخی محفوظ پناہ گاہ میں دوبارہ منظم ہو جائے گی۔

مچ میکانل نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں امریکی فوج دہشت گردوں کے خلاف مشن کے لیے افغانستان کے اندر ہی پرواز کر سکتی ہیں۔ اس ملک میں جانا آسان نہیں ہے جب اس کے پڑوسی ایران، پاکستان اور ان کے بقول، روس کے اثر و رسوخ والے وسطی ایشیائی ممالک کی طرف سے امریکہ کو وہاں اپنا فوجی اڈہ بنانے کی اجازت دینے کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ کی افواج کہاں موجود ہوں گی؟ کیا ہزاروں میل دور بیٹھ کر ہم حملوں کا جواب دے سکیں گے؟ اپنے سفارت خانے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کتنی فورسز درکار ہو گی؟ اگر طالبان کا ہجوم اس پر قبضہ کرنا چاہے گا تو ہم اس کے تحفظ کے لیے کیا کریں گے؟

مچ میکانل نے مزید کہا کہ عراق کے تجربے سے واضح ہو چکا ہے کہ دور بیٹھ کر معاملات نہیں سنبھالے جا سکتے۔ اگر طالبان کابل پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کیا بائیڈن حکومت ان کو تسلیم کر لے گی؟ کیا ہم اپنا سفارت خانہ اور امدادی پروگرام بند کر دیں گے؟ امریکی حزب اختلاف کے راہنما نے خراب صورت حال میں افغانستان کے اندر انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، انسداد دہشت گردی، مہاجرین کی تعداد میں اضافے جیسے عوامل کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔

اس میں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور محکمہ دفاع پنٹاگان نے اپنے حالیہ بیانات میں بار بار یہ موقف اختیار کیا ہے کہ افغان جنگ امریکہ کی طویل ترین جنگ اور لامتناہی جنگ تھی، جس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ افغانستان میں نائن الیون کے دہشت گرد حملے کے بعد جن مقاصد کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی، وہ حاصل کر لیے گئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کو کیفرکردار تک پہنچایا جا چکا ہے جب کہ القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ یہ بھی باور کراتی ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان بھی اس بات کی ضمانت دے چکے ہیں کہ وہ بین الاقوامی عسکریت پسند گروپوں کو افغانستان میں منظم نہیں ہونے دیں گے اور ان کو اپنی سرزمین امریکہ یا اتحادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

امریکی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد کسی بھی کارروائی کے لیے پاکستان، امریکہ کو زمینی اور فضائی رسائی دے گا۔ امریکہ کے معاون وزیرِ دفاع برائے انڈو پیسفک ڈیوڈ ہیلوی نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ افغانستان تک رسائی کے لیے، پاکستان امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔ البتہ، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی فوجی اڈے پاکستان منتقل نہیں ہو رہے۔ تاہم، وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے، پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز