زاہدان(ہمگام نیوز ) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے بلوچ کم عمر قیدی میثم ایرندگانی کی پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ میثم ایرندگانی کو 21 جولائی 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق میثم ایرندگانی کو تقریباً چار سال قبل اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس کی عمر صرف 14 سال تھی۔ وہ خاش میں ایک گاڑیوں کی مرمت کی دکان پر کام کرتا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ ایک جھگڑے کے دوران ایک شخص کی ہلاکت سے متعلق تھا، جس کے بعد ایرانی عدالتی حکام نے اسے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی۔

رپورٹس کے مطابق میثم کو ابتدائی طور پر زاہدان کے بچوں کی اصلاح و تربیت کے مرکز میں رکھا گیا، بعد ازاں اسے ایرانشہر جیل منتقل کردیا گیا جہاں 21 جولائی 2026 کی صبح اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہەنگاو کے مطابق میثم کو جرم کے وقت 14 سال کا تھا، جبکہ پھانسی کے وقت اس کی عمر 18 سال تھی۔

جرم کے وقت کم عمر ہونے کے باوجود پھانسی نہیں دی گئی ۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے افراد کو سزائے موت دینا مکمل طور پر ممنوع ہے جنہوں نے مبینہ جرم اس وقت کیا ہو جب ان کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ تنظیم نے ایران میں بچوں کے طور پر جرم کے مرتکب ہونے والے افراد کو سزائے موت دیے جانے اور دیگر کم عمر ملزمان کو پھانسی کے خطرے میں رکھنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، بچوں کو سزائے موت دینا بچوں کے حقوق کے کنونشن اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کے تحت ایران کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔ ایران ان دونوں بین الاقوامی معاہدوں کا فریق ہے۔

تنظیم نے ایران میں سزائے موت کے وسیع پیمانے پر استعمال کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی حکام سزائے موت کو سیاسی مخالفین اور دیگر افراد کے خلاف دباؤ اور جبر کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ تنظیم نے ایرانی حکام سے تمام پھانسیوں کو فوری طور پر روکنے اور سزائے موت پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ شہریوں پر سزائے موت کا غیر متناسب اثر

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں سزائے موت کا اثر بعض نسلی اور مذہبی اقلیتوں پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے۔ بلوچ شہریوں سمیت مختلف اقلیتی

( یاد رہے کہ قابض ایران نے عالمی سطح پر اس قدر جھوٹ پر مبنی بیانیہ پھیلایا ہے کہ بلوچ اقلیت میں ہیں حالانکہ کہ بلوچستان سے کاٹ کر دیگر علاقوں اور شہر کو بلوچستان کے ساتھ ملایا جائے تو بلوچ اقلیت میں نہیں بلکہ اکثریت میں ہونگے )

برادریوں کے افراد کے خلاف پھانسی کی سزاؤں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

میثم ایرندگانی کی پھانسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں سزائے موت کے استعمال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نے مئی 2026 میں کہا تھا کہ ایرانی حکام نے سیاسی نوعیت کے مقدمات میں سزائے موت کو مزید استعمال کیا ہے اور متعدد افراد کو غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کے بعد پھانسی دی گئی۔

میثم ایرندگانی کو جرم کے وقت صرف 14 سال کی عمر میں سزائے موت کے دائرے میں لانا اور بالآخر اسی مقدمے میں پھانسی دینا ایران کے عدالتی نظام میں کم عمر ملزمان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور سزائے موت کے استعمال پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔