Homeخبریںتربت، خواتین سمیت چار افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ...

تربت، خواتین سمیت چار افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کا تیسری روز بھی احتجاج، سی پیک شاہراہ بند

کیچ (ہمگام نیوز) تجابان میں ایک ہی خاندان کے خواتین سمیت چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کا احتجاجی دھرنا بدستور جاری ہے۔ شدید سردی، تیز ہواؤں اور نامساعد موسمی حالات کے باوجود خواتین، بزرگ اور معصوم بچے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جس کے باعث شاہراہ پر ہر قسم کی ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

لاپتہ افراد میں ہانی بلوچ، خیر ء النسا، فرید اعجاز اور مجاہد دلوش شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ہانی بلوچ اور خیر ء النسا کو حب چوکی سے جبکہ فرید اعجاز اور مجاہد دلوش کو تجابان، کیچ کے علاقے سے قابض پاکستانی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

مظاہرین نے تجابان کے علاقے کرکی کے قریب سی پیک روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر رکھا ہے اور اپنے پیاروں کی باحفاظت اور فوری بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دھرنے میں شریک خواتین کا کہنا ہے کہ جب تک چاروں لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر نہیں لایا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز