Homeخبریںتفتان میں خواتین پر تشدد: 'بلوچستان کے لوگ اندرونی نوآبادیاتی نظام اور...

تفتان میں خواتین پر تشدد: ‘بلوچستان کے لوگ اندرونی نوآبادیاتی نظام اور توہین کے خلاف خاموشی توڑیں’، مولوی عبدالقدوس سالارزہی کی اپیل

تفتان (ھمگام نیوز) تفتان کے مقامی عالم دین مولوی عبدالقدوس سالارزہی نے علاقے میں خواتین پر ہونے والے تشدد اور انتظامیہ کے رویے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام سے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

 

18 جون 2026 کو تفتان کے علاقے کوتہ میں ایک بلوچ شہری کی نمازِ جنازہ کے موقع پر، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی کُرد بھی موجود تھے، مولوی سالارزہی نے حکومتی اداروں اور تفتان کی کانوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے تفتان اور خاش کے عوام، بالخصوص نوجوانوں اور قبائلی رہنماؤں سے کہا کہ وہ خطے میں ہونے والی بدسلوکی، توہین اور دباؤ کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

 

یہ اندرونی نوآبادیاتی نظام ہے’

مولوی سالارزہی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوآبادیاتی نظام دو طرح کا ہوتا ہے: ایک بیرونی اور دوسرا اندرونی۔ آج بلوچستان کے عوام ایک بدترین اندرونی نوآبادیاتی نظام کا سامنا کر رہے ہیں، جسے ان حکام اور بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے جن کے اپنے معاشی مفادات ان کانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ترقی کے نام پر ان غریب اور بے سہارا لوگوں کے وسائل لوٹ رہے ہیں جن کی حکومت یا سرکاری اداروں میں کوئی شنوائی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جن لوگوں کی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا تھی، وہ اس ظلم اور توہین پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے قبائلی رہنماؤں، تعلیم یافتہ افراد اور بزرگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

> “ان لٹیروں کے غلام نہ بنیں، آپ ایک آزاد قوم ہیں۔ آپ نے ماضی میں دنیا کی بڑی بڑی فوجوں کو یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا، لیکن آج کچھ پست ذہن لوگ ان کمپنیوں کے سہولت کار بن کر ہماری زمین، ہماری ماؤں اور بہنوں کی توہین کر رہے ہیں۔ آج ہمیں قبائلی تفریق کو بھول کر حق کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔”

 

انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مائیننگ (کان کنی) کی سرگرمیاں انسانی آبادیوں سے کم از کم 30 کلومیٹر دور ہونی چاہئیں، لیکن یہ کمپنیاں بالکل ہمارے گھروں کے قریب کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں کینسر جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

معاشرتی اقدار کی پامالی پر بات کرتے ہوئے بلوچ رہنما نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ باہر سے آنے والے لوگ ہماری ماؤں بہنوں کو علاقے سے نکالنے اور گاڑیوں میں ڈال کر لے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بلوچ ایسے عناصر کا ساتھ دے رہا ہے، وہ مجرم ہے اور دوغلے لوگوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے سب کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے رکنِ پارلیمنٹ علی کُرد کی موجودگی میں واضح کیا کہ کچھ لوگ صرف اپنے ذاتی فائدے اور پیسوں کی خاطر عوام کے مسائل سے نظریں چرا رہے ہیں۔

 

سیکیورٹی فورسز کا حملہ

یہ احتجاجی بیان ایک حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ **15 جون 2026** کی رات تفتان کے علاقے ‘سرسیہ نوک آباد’ میں پارس تامین نامی کمپنی کی سیکیورٹی اور سرکاری فورسز نے بلوچ خواتین کے ایک پرامن احتجاج پر دھاوا بول دیا تھا۔ یہ خواتین تفتان میں سونے کی کان (گولڈ مائن) کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تباہی، زراعت کے نقصان اور پانی کی آلودگی کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔ اس حملے میں “بی بی نور ریگی کوتہ” نامی ایک بلوچ خاتون شدید زخمی ہوئیں جبکہ کئی دیگر خواتین کو تشدد اور توہین آمیز

رویے کا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز