تہران (ہمگام نیوز) ایران میں گزشتہ چند روز کے دوران 7 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہہنگاو کے مطابق پھانسی پانے والوں میں دو گیلک شہری، ایک کرد شہری اور کم عمری میں جبری شادی کا شکار ہونے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
پھانسی پانے والے قیدیوں کی شناخت آرزو رستاد، مصطفیٰ وثوقی، مسعود نعمتی، اسماعیل عجمی، ہدایت جمالزاده، عماد شیخی اور امیر دانائی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ انہیں اس سے قبل ’’منشیات سے متعلق جرائم‘‘ اور ’’جان بوجھ کر قتل‘‘ کے الزامات میں سزائے موت یا قصاصِ نفس سنائی گئی تھی۔
ہہنگاو کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، 26 اگست 2026 کی صبح دلفان (نورآباد) کے علاقے کے گاؤں ریواسان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ مصطفیٰ وثوقی کو خرمآباد کی مرکزی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ انہیں تین سال قبل جان بوجھ کر قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی روز 42 سالہ مسعود نعمتی اور 39 سالہ اسماعیل عجمی کو ساری کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔ دونوں شادی شدہ اور ساری سے تعلق رکھنے والے بس ڈرائیور تھے۔ انہیں ایک مشترکہ مقدمے میں تقریباً تین سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اس سے ایک روز قبل، 25 اگست 2026 کو رشت سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ہدایت جمالزاده کو رشت کی مرکزی جیل، لاکان جیل، میں پھانسی دی گئی۔ انہیں پانچ سال قبل جان بوجھ کر قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی روز قزوین سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ عماد شیخی کو یزد کی مرکزی جیل میں منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں پھانسی دی گئی۔ انہیں چار سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
24 اگست 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں دو قیدیوں، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں، کو پھانسی دی گئی۔ ان کی شناخت 23 سالہ آرزو رستاد اور 33 سالہ امیر دانائی کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آرزو رستاد کا تعلق اصفہان سے تھا۔ انہیں 19 سال کی عمر میں اپنے چچا زاد سے جبری شادی پر مجبور کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں دو سال قبل اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں سزائے موت سنائی گئی۔
اسی دوران رشت سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ گیلک شہری امیر دانائی کو بھی اصفہان کی اسی جیل میں منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں پھانسی دی گئی۔ انہیں چار سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان کی پھانسی خفیہ طور پر اور اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر انجام دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، ان ساتوں قیدیوں کی پھانسی کی خبریں اس رپورٹ کی تیاری تک ایرانی سرکاری میڈیا، بالخصوص عدلیہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ، میں نشر نہیں کی گئی تھیں۔















