جاشک(ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر جاشک کی تحصیل لیردف کے گاؤں کرتی میں چاقو کے حملے کے نتیجے میں ایک 17 سالہ بلوچ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت محمد رحمتی ولد سفر کے نام سے ہوئی ہے، جو گاؤں کرتی، تحصیل لیردف، ضلع جاسک کے رہائشی تھے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ، 20 جون 2026 کی شام پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 45 سالہ ایک شخص نے محمد رحمتی پر حملہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور کا دعویٰ تھا کہ اس کا بیٹا محمد رحمتی کی وجہ سے منشیات کی لت میں مبتلا ہوا ہے۔ اسی الزام پر دونوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی، جو بعد ازاں جسمانی جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھگڑے کے دوران حملہ آور نے چاقو سے محمد رحمتی پر وار کیا، جس کے نتیجے میں انہیں سینے پر شدید زخم آئے۔
محمد رحمتی کو فوری طور پر لیردف کے مقامی طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
واقعے کے بعد مقامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔


