سیول(ہمگام نیوز) جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں بحری بحران کے دوران فوجی تعیناتی کا جائزہ لے رہا ہے، جس کے لیے بحری جہاز اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والی ٹیم شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ براہ راست جنگ کا مقصد نہیں۔ اس قدم کی وجہ ملک کی 61 فیصد خام تیل کی درآمدات کا انحصار اس راستے پر ہونا ہے اور امریکہ کا دباؤ، تاہم حتمی فیصلے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری اور عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے.
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں فوجی اثاثے بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ حکومت مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور کسی بھی تعیناتی سے قبل ملکی قانونی تقاضے اور پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔
جنوبی کوریائی میڈیا کے مطابق زیرِ غور منصوبے میں بحری گشتی طیارہ، بارودی سرنگیں صاف کرنے والی ٹیم اور لاجسٹک سپورٹ بحری جہاز شامل ہو سکتے ہیں۔ مقصد براہِ راست جنگ میں حصہ لینا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور سمندری راستے کی آزادی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 61 فیصد گزشتہ سال اسی راستے سے آتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بھی سیئول پر ہرمز میں بحری سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھا ہے۔
تاہم جنوبی کوریا میں اس معاملے پر عوامی حمایت محدود ہے، اس لیے حکومت کو فوجی تیاری کے ساتھ ساتھ سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔















