لندن ( ہمگام نیوز ) فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے الیکشن کمیٹی قائم ہونے کے بعد بلوچستان اور بیرون ملک الیکشن کروائے گئے۔ بلوچستان میں ایف بی ایم کی آئین کے تحت تنظیم سازی کی گئی اور بیرون ممالک میں ایف بی ایم کے برانچ قائم کئے گئے۔ الیکشن کے ذریعے برانچز کے عہدیداران اورمرکزی نیشنل کونسل کے ارکان کو چنا گیا۔ الیکشن اور بلوچستان میں تنظیم سازی مکمل ہونے کے بعد فری بلوچستان موومنٹ کے بانی صدر حیربیاری مری کی سربراہی میں جولائی کے پہلے ہفتے میں دو روزہ نیشنل کونسل کی میٹنگ طلب کی گئی۔ امریکہ، برطانیہ،جرمنی، ناروے، سوئیڈن ،کینیڈا سمیت خلیجی ممالک سے نیشنل کونسل کے ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس حوالے سے ایف بی ایم الیکشن کمیٹی کے ممبران ،ایف بی ایم کے داخلی عدلیہ نظام کے نامزد ارکان اور نامزد کابینہ ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔
اجلاس کے دوران سب سے پہلے شرکاء کا آپسی تعارف ہوا،بعد میں ایف بی ایم کے بانی سربراہ حیربیار مری نے نیشنل کونسل کے ممبران کے سامنےفری بلوچستان موومنٹ کے آئین و منشور بارے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی ایم ایک سیاسی جماعت ہے جسکا بنیادی مقصد پاکستان اور ایرانی تسلط کے خلاف جدوجہد اور متحدہ بلوچستان کی آزاد حیثیت و بلوچ قومی خودمختاری کی بحالی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فری بلوچستان موومنٹ ہر اس شخص کو خوش آمدید کہے گی جس کا تعلق بلوچستان سے ہو اور جو پارٹی کی اغراض و مقاصد اور آئین کی پاسداری کرے .
اس کے علاوہ مستقبل کے سیاسی پروگرام بارے انھوں نے آئین کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فری بلوچستان موومنٹ بلوچستان لبریشن چارٹرکو برقرار رکھنے کے ساتھ ،ساتھ اس کی ترویج کرکے اس کو نافذ کریگی۔
پارٹی کی جدوجہد کا بنیادی محور و مقصد متحدہ آزاد بلوچستان کا قیام عمل میں لانے کیلئے ہے ۔ جہاں ایک پارلیمانی جمہوری نظام اور سیکولر آئین لایا جائیگا۔ جس کی وضاحت بلوچستان لبریشن چارٹر کی شق نمبر ۴۴میں درج ہے۔اس کے علاوہ ایف بی ایم کا اپنا کوئی پارٹی جھنڈا نہیں ہوگا بلکہ اپنے تمام سیاسی پروگرامز میں آزاد بلوچستان کے پرچم کی ترویج کریگی۔ تاہم پارٹی ‘لوگو’ کو آفیشل شناخت کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔
بلوچستان کی موجودہ صورتحال، عالمی سیاسی منظر نامہ اور ایگزیکٹیو کونسل کے سربراہان و کارکنوں کی قومی زمہ داریوں کے بارے میں خطاب کیا اور اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا، کہ کیونکر مختلف سیاسی پارٹیاں ہونے کے باوجود آج فری بلوچستان موومنٹ کی بنیاد رکھنے کی ضرورت پیش آئی ۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا جہاں پر حیربیار مری نے نیشنل کونسل ممبران کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔
پہلے دن کے اجلاس کے اختتام کے دوران ایف بی ایم کے نائب صدر، ایگزیکٹیو ڈیپارٹمنٹس (انتظامی محکموں) کے سربراہان اور داخلی نظام عدلیہ کے ارکان کے نام نیشنل کونسل کے سامنے منظوری کے لیے رکھے گئے، تاکہ اجلاس کے دوسرے دن نیشنل کونسل ممبران نامزد عہدیداران سے سوال و جواب کرسکیں اور اس کے بعد ان کی تقرری کو منظور یا مسترد کریں۔
اجلاس کے دوسرے دن محکموں کی ذمہ داریوں اور اختیارات پرتفصیلی بحث ومباحثہ کیا گیا۔ بحث کے بعد نیشنل کونسل ممبران نے ایگزیکٹیو ڈیپارٹمنٹس کے نامزد سربراہان سے ذمہ داریوں اور ان کے تجربہ و قابلیت سے متعلق سوالات کیئے ۔
اس کے بعد شرکا کا ایف بی ایم کے منشور متعلق سوالات و جوابات کا سیشن منعقد ہوا۔نیشنل کونسل کے اس میٹنگ میں واضع کیا گیا کہ اگر آئینی ترمیم بارے کسی نقطہ کی نشاندہی ہوئی تو اسے بحث و مباحثے کیلئے نیشنل کونسل کے سامنے لایا جائے گا۔ ایف بی ایم کی نیشنل کونسل میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے ایران اور پاکستان کے خلاف متحرک سیاسی تنظیمیوں سے اتحاد اور یکجہتی کیلئے ازسرنو کوششیں کی جائیں گی۔
مزید برآں فری بلوچستان موومنٹ کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کی منظوری نیشنل کونسل ممبران کی طرف سے بزریعئہ ووٹنگ دی گئی گئی۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس اور عہدوں کیلئے جن میں بالترتیب وائس پریزیڈنٹ کیلئے شہسوار کریم زادہ ، آرگنائزیشنل ڈیپارٹمنٹ ہوم کیلئے بیبگر بلوچ، آرگنائزیشنل ڈیپارٹمنٹ ایکسٹرنل اور فارن افیئرز ڈیپارٹمنٹ کیلئے جمال ناصربلوچ ، فنانس ڈیپارٹمنٹ کیلئے فیض محمد بلوچ، ٹرائیبل افئیرز ڈیپارٹمنٹ کیلئے حفیظ حسن آبادی ، ایف بی ایم انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کیلئے نہالان بلوچ ، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر گمشاد بلوچ کی تقرری کی منظوری دی گئی۔
نیشنل کونسل کی میٹنگ اختتام پزیر ہونے کے چند دن بعد نائب صدر اور ڈیپارٹمنٹ سربراہاں کی حلف برداری حیربیار مری کی طرف سے لی گئی۔ نائب صدر اور ڈیپارٹمنٹ سربراہاں پارٹی صدر کی سربرائی میں ایگزیکٹیو کونسل کے بھی ارکان ہونگے جو کہ ایف بی ایم کی مرکزی کابینہ ہوگی۔


