Homeخبریںراسک میں تیل بردار گاڑی الٹنے سے ایک بلوچ نوجوان جاں بحق،...

راسک میں تیل بردار گاڑی الٹنے سے ایک بلوچ نوجوان جاں بحق، دو زخمی

راسک(ھمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر راسک میں تیل بردار گاڑی الٹنے کے نتیجے میں ایک بلوچ نوجوان جاں بحق جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق، یہ حادثہ 26 جولائی 2026 کی علی الصبح تقریباً 3 بجے راسک کی تحصیل جنگل کے دوراہے کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر تیل بردار گاڑی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بے قابو ہو کر الٹ گئی۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت مصطفیٰ آسکانی (عمر تقریباً 20 سال)، ولد یوسف، کے نام سے ہوئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی شناخت رضوان بلوچی ولد مراد بخش اور جہانزیب آسکانی ولد ادہم کے طور پر کی گئی ہے۔ تینوں کا تعلق راسک کے علاقے جنگل گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، حادثے کے نتیجے میں مصطفیٰ آسکانی شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ دیگر دونوں زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

 اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے دوران کم از کم 173 بلوچ تیل بردار افراد ہلاک اور 132 زخمی ہوئے۔ ان میں سے 131 افراد ٹریفک حادثات میں جان سے گئے جبکہ 80 زخمی ہوئے۔ اسی عرصے میں فوجی کارروائیوں، جن میں فائرنگ، بارودی سرنگوں کے دھماکے، تعاقب اور تشدد شامل ہیں، 37 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے۔ مزید 2 افراد تیل برداری کے دوران ڈوب کر جان سے گئے، آتش زدگی کے واقعات میں 1 شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے، جبکہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور 1 زخمی ہوا۔ علاوہ ازیں، سال بھر میں کم از کم 211 بلوچ تیل برداروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز