زاہدان(ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق پیر 3 اگست 2026 کو زاہدان میں ایک 11 سالہ بلوچ بچے کے اغوا کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بچہ ہفتہ 1 اگست کی شام گھر سے خریداری کے لیے نکلا تھا، جس کے بعد نامعلوم افراد نے اسے اغوا کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے اگلے روز بچے کے اہل خانہ سے رابطہ کرکے اس کی رہائی کے بدلے 10 ارب ایرانی تومان نقد طلب کیے ہیں۔
اغوا ہونے والے بچے کی شناخت 11 سالہ امیر حارث براہوئی کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے اتوار 2 اگست 2026 کو بچے کے والد سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ بچہ ان کے قبضے میں ہے۔ اس کے بدلے انہوں نے 10 ارب ایرانی تومان نقد کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ ایسے فون نمبر سے کیا گیا جس کا ابتدائی کوڈ پاکستان کا تھا۔ تاہم، اہل خانہ کے قریبی ذرائع کے مطابق اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اغوا کار پاکستان میں موجود ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تفتیش اور بچے کی تلاش کے عمل کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستانی نمبر استعمال کیا گیا ہو۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ بلوچستان میں اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بلوچ عالم دین مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے بھی 31 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے خطبے میں اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
مولوی عبدالحمید نے کہا تھا کہ عوام کی برداشت ختم ہوچکی ہے اور بڑھتے ہوئے یرغمال بنانے کے واقعات لوگوں میں شدید تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس وسیع وسائل موجود ہیں، اس لیے اگر ان جرائم کے خلاف سنجیدہ ارادہ موجود ہو تو ملزمان کی شناخت اور گرفتاری مشکل نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے عوامی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ بدامنی اور اغوا کے واقعات کا پھیلاؤ صوبے کے عوام کے لیے اہم ترین خدشات میں شامل ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں یرغمال بنانا، بالخصوص قابض ایرانی سکیورٹی اداروں کی مبینہ پشت پناہی میں مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے، ایک عام اور منظم طریقہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی افراد کو استعمال کرتے ہوئے ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بلوچ شہریوں کو یرغمال بنانا اور ان سے بھتہ وصول کرنا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔


