ریاض (ھمگام نیوز) بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر سعودی عرب نے سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر نیا اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی حکام متعدد ممالک سے رابطے میں ہیں تاکہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ تاہم مجوزہ اتحاد کی حتمی شکل اور اس میں شامل ممالک کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب درجنوں ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جبکہ نئے اتحاد کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں پر مشاورت جاری ہے۔

سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر عراق سے ڈرون حملہ، فورسز نے ناکارہ بنا دیا

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر ایران، سعودی عرب اور عمان کے درمیان اہم رابطے

یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری سرگرمیوں اور جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک نے سمندری راستوں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی تنظیم باب المندب میں ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جسے انہوں نے ایک خطرناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشتگرد سرگرمیوں کو مالی مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں حوثی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے جواب میں سعودی اتحادی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔