Homeخبریںمستونگ اور خضدار میں پاکستانی فوج کی جارحیت ،ڈرون حملے میں بچہ...

مستونگ اور خضدار میں پاکستانی فوج کی جارحیت ،ڈرون حملے میں بچہ جانبحق،چمن میں دستی بم پھٹنے سے ایک شخص ہلاک

شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں آج صبح سے پاکستانی فوج کی جاریت جاری ہے، علاقے میں آبادی پر ڈرون حملوں و فورسز پر آئی ای ڈی حملوں کی اطلاعات ہیں۔جبکہ ضلع خضدار میں فوج کے ڈرون حملے میں ایک کمسن بچہ جانبحق ہوا ،چمن میں دستی بم حملے میں تعمراتی کمپنی کا مزدور ھلاک ۔

مستونگ کے علاقے دشت، کمبیلا میں آج صبح سویرے پاکستانی فوج نے آپریشن کا آغاز کردیا ، فوج کی بھاری تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ اس دوران ڈرون حملوں اور مارٹر گولے فائر کیئے جارہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں عام آبادیوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم اس حوالے سے تفصیلات آنا باقی ہے۔

دوسری جانب ضلع خضدار کے علاقہ ساسول گورو میں پاکستانی فوج کی ڈرون حملے میں محمد ایمن ولد یارمحمد نامی ایک کمسن بچہ ہلاک ہوگیا۔

واقعہ گزشتہ روز ضلع خضدار، کے علاقے ساسول گورو میں پیش آیا ۔

مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت مذکورہ کمسن مقامی بچہ ایک ہوٹل میں موجود تھا کہ ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔

دریں ااثناء ضلع چمن میں دستی بم حملے میں ایک شخص ہلاک دوسرا زخمی ہوگیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مزدوروں پر حملے کا واقعہ چمن شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پرانے چمن کے علاقے میں پیش آیا۔

چمن پولیس کے ڈی ایس پی اشفاق مغل نے بتایا کہ اس علاقے میں مزدور سو رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں ایک مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدوروں کا تعلق سندھ سے ہے جو کہ یہاں شاہراہ کی تعمیر کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔

افغانستان سے ملحقہ اس سرحدی ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے غیر مقامیوں پر حملوں کے واقعات طویل عرصے سے پیش آرہے ہیں۔

اگرچہ چمن میں سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت دیگر سنگین بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں لیکن مزدوروں پر حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز