سراجیوو (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق وکی ليکس، پاناما اور پينڈورا پيپرز کے بعد کريڈٹ سوئس بينک کے 18 ہزار اکاؤنٹس کا ريکارڈ ليک ہوگيا، جس میں پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کا نام بھی شامل ہے۔
کريڈٹ سوئس لیک نے اکاؤنٹس ميں 100 ارب ڈالر سے زائد رقم موجود ہونے کا انکشاف کيا ہے، جن ميں کئی ڈکيٹيٹرز سياستدانوں اور خفيہ اداروں کے سربراہان کے کھاتے شامل ہيں۔
سوئس سیکریٹس کے مطابق جنرل اختر عبدالرحمان نے مصر کے عمر سلیمان، یمن کے غالب القاسم اور اردن کے جاسوس سعد خضر کے ساتھ مل کر ریاستی انٹیلی جنس ایجنسیاں چلائیں جہاں سے وہ بڑے بلیک بجٹ کو کنٹرول کرتے تھے جو پارلیمانی اور ایگزیکٹو کی جانچ سے بالاتر تھے۔
او سی سی آر پی نے انکشاف کیا کہ 1970 کی دہائی کے آخر میں افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے سات گروپس کی امریکا نے پشت پناہی کی امریکا کے تعاون سے سعودی عرب اکثر سی آئی اے کے سوئس بینک اکاؤنٹ سے ڈالر بھجتا تھا اور ساکا آخری وصول کنندہ پاکستان کا انٹر سروسز انٹیلی جنس گروپ (آئی ایس آئی) تھا، جس کی قیادت جنرل اختر کر رہے تھے۔
سن 1980 کی دہائی میں پاکستانی جنرل نے اپنے بیٹوں کے نام تین سوئس اکاؤنٹس کھولے۔
یکم جولائی 1985 کو کریڈٹ سوئس میں جنرل اختر کے بیٹوں اکبر، غازی اور ہارون کے ناموں پر مشترکہ طور پر کھولا گیا جبکہ دوسرا اکاؤنٹ جنوری 1986 میں جنرل اختر کے نام کھولا گیا جس کی مالیت نومبر 2010 تک 9 ملین سوئس فرانک سے زیادہ تھی۔


