شال (ہمگام نیوز ) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کی طرف سے قابض پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے پیرول پر سرگرم بلوچ تحریک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن گوبٹ یعنی گوئٹ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ہمارے سرمچاروں نے 12 اکتوبر کو آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے لئے کام کرنےوالے ایک گروہ کے چار افراد کو جرائم ثابت ہونے پرہلاک کیا تھا جن میں جمیل احمد، عبدالرسول، سعید احمد اور بارو شامل تھے۔ ان مخبروں کی نشاندہی پر ان کے ایک اور ساتھی شکیل احمد ولد عبدالواحد کو بارہ اکتوبر کو ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ مخبر نے اعتراف کیا وہ 2025 سے باران عرف بارو کے ذریعے آئی ایس آئی اور فوج کے لئے کام کررہے تھے۔ انہوں نے مخبر باران کے ساتھ مل کر بلوچ جہد کاروں کے خلاف آئی ایس آئی کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا۔ ان کی سربراہی میں ایک کاروائی میں بی ایل اے کے دو جہد کار ساتھی شہید ہوئے اورجھڑپ میں قابض پاکستانی فوج کے دو اہلکار بقول ان کے مردار ہوگئے۔ اس آپریشن کے بدلے انہیں فوج کی طرف سے بیس ہزار پاکستانی کرنسی دیے گئے تھے۔ ایک اور کاروائی میں انہوں نے فوج کے ساتھ مل کر جتک آباد میں بلوچ جہد کاروں کے خلاف آپریشن کروایا جس سے دو بلوچ جہد کار شہید جبکہ بقول انکے ایک پاکستان کا فوجی اہلکار مردار ہوگئے تھے۔ اس کاروائی کے عیوض بھی انہیں تیس ہزار پاکستانی کرنسی دی گئی تھی۔
دریں اثنا اس کے گروہ نے بارو کے ذریعے فوج کی طرف سے دیے گئے خفیہ چپ لاکر مسجد اور سرمچاروں کے قریب چھپائے تھے۔ لوکیشن کا پتہ لگا کر دشمن کے جیٹ طیاروں نے ان جگہوں پر بمباری کی جس سے مسجد اور دیگر رہائشی کمرے منہدم ہوگئے تھے۔ اس آپریشن کی سہولت کاری پر انہیں بیس ہزار روپے ملے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ دشت گوران میں بھی فوجی آپریشن کے دوران بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر وہ بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اس دوران پاکستانی فوج اور بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں کے مابین جھڑپ ہوئی۔ اس لڑائی کے دوران تین بلوچ سرمچار شہید ہوئے جبکہ نو پاکستانی فوج کے اہلکار ان کے مطابق مردار ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنے تمام تر بلوچ دشمن سرگرمیوں کا ویڈیو بیان کے ذریعے اعتراف کیا ہے۔ بلوچ قومی عدالت نے سارے شواہد اور مجرم کے اقبال جرم کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے سزائے موت دے دی جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہمارے سرمچاروں نے کل 21 اکتوبر رات دس بجے قلات کے علاقے چھپر میں اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔
بی ایل اے تمام ریاستی آلہ کاروں ، مخبروں، قابض دشمن فوج اور ان کے خفیہ اداروں کے لئے کام کرنےوالے عناصر کو کھڑی وارننگ دیتی ہےوہ بلوچ جہد کے خلاف دشمن کا ساتھ دے کراپنے لئے موت کا چناو خود کررہےہیں۔ ہماری تنظیم بلوچ جہد آزادی کے خلاف متحرک ہررکاوٹ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تیار ہے۔ ہماری جنگ بلوچستان کی مکمل آزادی اور قابض فورسز کی بلوچستان سے انخلا تک شدت کے ساتھ جاری رہیگی۔


