شام (ہمگام نیوز) شام کے جنوبی شہر السویدا میں دروز اقلیت کے عسکریت پسندوں اور شامی افواج کے دوران جاری لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور اسرائیل بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شام کی سرکاری فورسز اور دروز قبیلے کے درمیان جنگ بندی معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا تھا جب اسرائیل نے دروز قبیلے کی حمایت میں لڑائی میں شامل ہونے کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیل نے جنوبی شام میں سرکاری افواج کے قافلوں پر کئی حملے کیے ہیں اور سرحد پر اپنی افواج کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے۔

اس سے قبل شام کی وزارت دفاع نے السویدا کے علاقے میں اکثریت میں آباد دروز قبیلے کے عسکریت پسندوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے منگل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں طویل حکمرانی کے بعد دسمبر میں بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد نئی عبوری حکومت کو خانہ جنگی کے شکار ملک کی تعمیر نو اور بحالی کا چیلنج درپیش ہے۔

دمشق کے قریب واقع جرمانہ کی 20 سالہ ایولین عزام نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے شوہر رابرٹ کیوان ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ نوبیاہتا جوڑا کچھ عرصہ قبل دمشق کے نواح میں منتقل ہوا تھا لیکن شوہر رابرٹ کیوان کو ہر صبح کام کی غرض سے السویدا جانا پڑتا ہے۔

ایولین عزام نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے فون پر بات کر رہی تھیں جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان سے پوچھ رہے تھے کہ آیا ان کا تعلق دروز عسکریت پسندوں سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب میرے شوہر کے دوست نے آواز بلند کی تو مجھے بندوق کے فائر کی آواز سنائی اور اس کے بعد میرے شوہر کو بھی گولی مار دی گئی۔‘

’انہوں نے میرے شوہر کو کولہے میں گولی ماری۔ پھر ایک ایمبولینس انہیں ہسپتال لے گئی، اس کے بعد سے مجھے ان کا کچھ علم نہیں ہے۔‘

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شام کے جنوبی صوبے میں دروز قبیلے اور سنی بدو قبیلے کے درمیان بھی چھڑپیں جاری ہیں اور ایک دوسرے کے افراد کو قتل اور اغواء کیے جانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔