غزہ(ہمگام نیوز )غزہ پر اسرائیلی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 150 سے زائد فلسطینی جانبحق ہوچکے ہیں، جن میں فلسطین کی قومی فٹبال ٹیم کے سابق کھلاڑی سلیمان العبید بھی شامل ہیں۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ھلاک ہونے والوں میں وہ 90 فلسطینی بھی شامل ہیں جو امداد کے انتظار میں تھے، انہی میں فلسطینی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان سلیمان العبید بھی شامل تھے، جو خوراک کی امید میں اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی سلیمان العبید کی ھلاکت کی تصدیق کی ہے، جنہیں ’فلسطین کا پیلے‘ بھی کہا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ فلسطین کی قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی سلیمان العبید جنوبی غزہ میں انسانی امداد کے منتظر شہریوں پر اسرائیلی حملے میں جانبحق ہو گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق سلیمان العبید نے 2007 سے 2013 تک فلسطینی قومی فٹبال ٹیم کی نمائندگی کی، اس دوران انہوں نے 24 بین الاقوامی میچ کھیلے، 2010 میں یمن کے خلاف ان کا شاندار ’بائیسیکل کِک‘ کے ذریعے کیا گیا گول آج بھی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے 2015 سے 2018 تک مسلسل تین سیزن میں ’غزہ لیگ‘ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتا، جہاں وہ غزہ اسپورٹس اور خدمات الشاطیٰ کلبز کے لیے کھیلتے رہے۔ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق، سلیمان العبید کو کئی خطابات سے بھی یاد کیا جاتا تھا، جن میں ’فلسطین کا پیلے، غزال، سیاہ موتی اور ’فلسطین کا ہینری‘ شامل ہیں۔ ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلیمان العبید نے اپنے کیریئر میں 100 سے زائد گول کیے، اور ان کی شہادت کے بعد اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے کھلاڑیوں اور اسپورٹس سے وابستہ افراد کی تعداد 662 ہو گئی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے امدادی ٹرکوں کو بمباری سے تباہ شدہ سڑکوں کی طرف موڑ دیا، جس کے باعث کئی ٹرک الٹ گئے اور ان حادثات میں مزید 20 فلسطینی ھلاک ہوگئے۔ غزہ میں جاری قحط اور محاصرے کے نتیجے میں اب تک 96 بچوں سمیت کم از کم 193 فلسطینی غذائی قلت سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔