یاونڈے (ہمگام نیوز) — کیمرون کے صدر پال بیا، جو دنیا کے معمر ترین برسرِاقتدار رہنما ہیں، پیر کے روز آٹھویں مرتبہ صدر منتخب ہوگئے۔ الیکشن نتائج کے مطابق بیا نے 53.66 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ اُن کے اہم حریف اور سابق اتحادی عیسٰی چیروما باکاری کو 35.19 فیصد ووٹ ملے۔
92 سالہ بیا کا نیا سات سالہ دورِ صدارت انہیں تقریباً 100 سال کی عمر تک اقتدار میں رکھ سکتا ہے۔
نتائج سامنے آنے کے بعد اپوزیشن رہنما چیروما نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ شمالی شہر گاروا میں ان کے گھر کے قریب فائرنگ سے دو شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ گولیاں کس نے چلائیں۔ رائٹرز اس اطلاع کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
پچھلے ہفتے چیروما نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انتخابات جیت چکے ہیں اور کسی دوسرے نتیجے کو تسلیم نہیں کریں گے۔
انتخابات کے دوران اور بعد میں ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز اور اپوزیشن کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ دارالحکومت دوالا میں گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق جب جزوی نتائج نے بیا کی جیت کے آثار دکھائے تو مظاہروں میں شدت آگئی۔ اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے، جنہیں حکومت نے مسترد کر دیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مزید بدامنی اور احتجاج بڑھنے کا امکان ہے۔
اکسفورڈ اکنامکس کے سیاسی ماہر فرانسوا کونراڈی نے کہا ہم توقع کرتے ہیں کہ عوامی ردعمل میں شدت آئے گی، کیونکہ بیشتر کیمرونی عوام سرکاری نتائج کو مسترد کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے افریقہ پروگرام کے ڈائریکٹر موریٹی موتیگا نے کہا:
بیا کی صدارت اب کمزور ہو گئی ہے، کیونکہ بہت سے شہری یقین نہیں رکھتے کہ انہوں نے واقعی جیت حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر بیا کو فوری طور پر قومی مکالمہ شروع کرنا چاہیے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
پال بیا 1982 میں اقتدار میں آئے تھے اور اس کے بعد سے وہ مسلسل اقتدار میں ہیں۔ انہوں نے 2008 میں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کی مدت کی حد ختم کر دی تھی اور اس کے بعد سے ہر انتخاب میں کامیاب رہے ہیں۔
چیروما، جو پہلے حکومت کے ترجمان اور روزگار کے وزیر رہ چکے ہیں، رواں سال بیا سے الگ ہو کر اپوزیشن میں شامل ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم کو عوامی حمایت اور مختلف سیاسی گروپوں کی تائید حاصل تھی۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، یہ انتخابات کیمرون کی تاریخ کے سب سے متنازع الیکشن ثابت ہو سکتے ہیں، جنہوں نے ملک میں سیاسی کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔















