واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکی سپریم کورٹ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی درآمدی ٹیرِف کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے جا رہی ہے، جس کے لیے 5 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی مصنوعات پر بھاری ٹیرِف عائد کیے تھے جنہیں قومی معاشی مفاد کے تحت نافذ کیا گیا، تاہم کاروباری حلقوں اور تجارتی گروپوں نے ان فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ امریکی تجارت، عالمی منڈی اور آئندہ معاشی پالیسی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر عدالت ان ٹیرِف کو غیر قانونی قرار دیتی ہے تو حکومتی معاشی اختیارات میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے، تاہم فی الحال یہ محصولات برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سابق صدر ٹرمپ نے سماعت میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔















