دی ہیگ (ہمگام نیوز) عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر، فری بلوچستان موومنٹ کے نیدرلینڈز چیپٹر نے دی ہیگ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، بلوچستان میں ایران و پاکستانی قبضہ گیر ریاستوں کی جانب سے بلوچ قومی آزادی کے تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئیے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ پچھلے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

اس ضمن میں فری بلوچستان موومنٹ کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ ایران و پاکستان دونوں بلوچ قوم پر قابض ہیں اور بلوچ قومی شناخت کو ملیامیٹ کرنے کے درپے ہیں

دس دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر احتجاج کا مقصد بھی یہی ہے کہ عالمی برادری کی توجہ بلوچستان کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی جائے۔

یہ احتجاجی مظاہرہ ایک بجے سے شروع ہو کر 2 بجے تک جاری رہی اور اس میں فری بلوچستان موومنٹ کے مقررین نے خطاب کیا اور وہاں موجود عام لوگ اور صحافیوں کو آگاہی دی۔

مظاہرین نے مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی اور ایرانی قابض قوتوں کے ہاتھوں ہونے والے منظم مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا کو آگاہی دینے کی کوشش کی۔

اس احتجاج میں فری بلوچستان موومنٹ کے مرکزی ممبر اور ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ایڈوکیٹ صادق رئیسانی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور پاکستان اور ایران کی جانب سے بلوچستان میں ہونے والے مظالم کی تفصیلات پر روشنی ڈالی

انہوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بلوچ کارکنان، طلباء اور عام شہریوں کی جبری گمشدگیوں کو ایک منظم حربہ قرار دیا جو بنیادی پر قابض ریاستوں کی وجہ سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے

انہوں نے ایرانی حکام کی جانب سے مغربی مقبوضہ بلوچستان میں سزائے موت اور غیر عدالتی قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کی، جس سے بلوچ عوام کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔