ایرانی حکام نے ملک بھر میں صرف دو دن کے دوران کم از کم 18 افراد کو سزائے موت دے دی، جو ایران میں سزائے موت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کو
نمایاں کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کی رپورٹس کے مطابق، پیر 15 دسمبر کو کم از کم 11 قیدیوں کو مختلف جیلوں میں پھانسی دی گئی۔ یہ پھانسیاں رشت، گرگان، زنجان، دورود، کاشان، ساوہ، نیشاپور، کرمان اور اصفہان کی جیلوں میں عمل میں آئیں۔ پھانسی پانے والے افراد کو قتل یا منشیات سے متعلق جرائم میں سزا سنائی گئی تھی، جن میں سے متعدد کو انقلابی عدالتوں نے سزائیں دی تھیں۔
اس کے اگلے روز، منگل 16 دسمبر کو مزید کم از کم 7 افراد کو پھانسی دی گئی۔ یہ پھانسیاں بیرجند، بم، جیرفت، برازجان، ایلام، اہواز اور خواف کی جیلوں میں رپورٹ ہوئیں۔ ان مقدمات میں بھی زیادہ تر الزامات قتل اور منشیات سے متعلق تھے۔
. حسبِ معمول، ان میں سے کسی بھی پھانسی کا اعلان ایرانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر نہیں کیا گیا، اور یہ امکان موجود ہے کہ اصل تعداد انسانی حقوق کی تنظیموں
کی تصدیق شدہ اطلاعات سے کہیں زیادہ ہو۔
. یہ حالیہ لہر ایران میں سزائے موت کے وسیع تر اور خطرناک رجحان کا حصہ ہے۔ عبدالرحمٰن برومند سینٹر کے مطابق، 2025 کے آغاز سے اب تک ایران میں کم از کم 1,800 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق، ایران میں اکثر سزائے موت ایسے مقدمات میں سنائی جاتی ہیں جہاں منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ ان میں آزاد وکیل تک رسائی کی عدم فراہمی اور شفاف عدالتی عمل کا فقدان شامل ہے۔
مزید برآں، 2025 میں ایران میں دی جانے والی بڑی تعداد میں پھانسیاں منشیات سے متعلق جرائم کے تحت دی گئی ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق سزائے موت صرف “انتہائی سنگین جرائم” تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ منشیات سے متعلق جرائم اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔















