بلوچ قومی تحریک کی تاریخ اُن لوگوں کے خون سے لکھی گئی ہے جنہوں نے نسل در نسل قربانیاں دی ہیں۔ اس سرزمین پر ایسے جانباز گزرے ہیں جنہوں نے اپنے سروں کا نذرانہ دے کر آزادی کے خواب کو زندہ رکھا ۔ وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ضرور ہوئے، مگر ان کا نظریہ، فکر اور مقصد آج بھی زندہ ہے ۔ ان کا عمل اور کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
ہزاروں شہدا نے وطن کے دفاع اور قومی وقار کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا ۔ بولان کے سنگلاخ اور بلند و بالا پہاڑ، سخت چٹانیں، گرمی و سردی کی شدت، طویل اور کٹھن پیدل سفر، دوستوں کی محبت بھری محفلیں، ہنسی مذاق اور وہ یادیں آج بھی دل میں بسی ہوئی ہیں ۔ وہ لمحات جو ہم نے ساتھ گزارے، کبھی فراموش نہیں ہو سکتے ہیں ۔
پھر ایک رات وہ المناک خبر آئی جسے بیان کرنا آج بھی آسان نہیں ۔ ہم تنظیمی کام کے سلسلے میں سفر پر تھے کہ اچانک نیٹ ورک کی حدود میں آ کر معلوم ہوا کہ قابض ریاستی فورسز کا آپریشن کے نام پر بربریت جاری ہے اور حالات انتہائی خراب ہیں ۔ ہرنائی میں دشمن نے جیٹ طیاروں کے ذریعے گشتی کیمپ کو نشانہ بنایا تھا ۔ چھ جھدکار شہید ہو چکے تھے ۔
یہ خبر سن کر دل سن ہو گیا۔ کچھ لمحوں تک یقین ہی نہ آیا ۔ پھر خود کو حوصلہ دیا کہ جنگ حوصلے کا نام ہے ۔ آزادی کی راہ میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں، چاہے وہ کتنی ہی کڑی کیوں نہ ہوں ۔ شہدا اپنا فرض ادا کر کے امر ہو جاتے ہیں، اور پیچھے رہ جانے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے نظریے اور فکر کو آگے بڑھائیں ۔ یہی ان کے ساتھ سچی وفاداری ہے ۔
اس کالی رات میں تیز ہوائیں چل رہی تھیں، فضا گرد آلود تھی اور منظر دھندلا چکا تھا ۔ جیسے قیامت کا سا سماں ہو ۔ دل میں عجیب سی بے چینی تھی ۔ اس سے دو روز پہلے دشمن کے ڈرون مسلسل فضا میں گردش کر رہے تھے ۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ ہرنائی میں بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں گل احمد عرف وحید بھی شامل تھے ۔
میں نے شہید گل احمد کو قریب سے دیکھا تھا ۔ ان کی آنکھوں میں خوف کا نام و نشان نہیں تھا ۔ وہ بلوچ قوم کے درد اور دکھ کو اپنے دل میں رکھتے تھے ۔ ہمت، شجاعت اور بلند حوصلے ان کی پہچان تھے ۔ سفر میں ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا خیال رکھتے، مشکل حالات کا سامنا خندہ پیشانی سے کرتے ۔ محفلوں میں ہنسی مذاق سے فضا کو خوشگوار بنا دیتے اور دوستوں کو کبھی بور نہ ہونے دیتے ۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کی یادیں، ان کا نظریہ اور ان کا عزم ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ سرزمین کی آبیاری کے لیے جن فرزندوں نے اپنے خون کا نذرانہ دیا، انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک راستہ متعین کیا ہے ۔ ان کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، اور ان کا پیغام آنے والے کل کے لیے مشعل راہ ہے۔















