“وہ (اغیار) اصرار کرتے ہیں کہ
ہماری کہانیاں صرف غم درد اور مظلومیت کی ہوں ،
تاکہ ہم انسانی ہمدردی کے لائق بن سکیں ،
اور ہمیں کچھ رحم مل جاۓ ۔
وہ رحم جو شکاریوں اور آقاؤں کے
ہتھیار ، کیمرے اور قلم کے رحم و کرم پر ہے”

ہارورڈ یونیورسٹی میں مدعو ناول نگار Viet Thanh Nguyen کی یہ گفتگو دراصل ویتنام کے تناظر میں تھی۔ مگر اس گفتگو کا یہ حصہ سنتے ہی میرے ذہن میں جو پہلا تاثر ابھرا، وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے وہ چہرے تھے جو مکران سے شال اور شال سے اسلام آباد تک سڑکوں پر کھڑی نظر آرہی ہیں ۔اغیار کے ہتھیاروں، کیمروں اور قلموں کے رحم و کرم پر۔

ہم نے آنے والی نسلوں، بالخصوص موجودہ نسل کے ساتھ شاید لاشعوری طور پر ایک بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ ہم نے بہت کچھ عجلت میں کر ڈالا۔ شاید ہر سمت میں یہی جلد بازی ہمیں ٹھہر کر سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر چکی ہے۔ حالانکہ کمزور کو طاقتور سے زیادہ سوچنا چاہیے نتیجتاً، سطحیت ہر پہلو میں نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔

انہی پہلوؤں میں ایک پہلو ہمارا بیانیہ کا پہلو بھی ہے ، وہ بیانیہ جس کے ذریعے ہم دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم مظلوم ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ مظلوم نہیں بلکہ باغی ہیں، اور باغی کبھی مظلوم نہیں ہوتا۔

ہمارے لکھاری، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور صحافی دن رات اسی میں مگن ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا اور وہ زیادتی ہوئی، مگر کوئی ہمارا حال پوچھنے والا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ ریاست کے دانشوروں اور اداروں سے بھی مسلسل شکوہ کنعاں ہیں کہ وہ ہمارے حق میں کیوں نہیں بولتے، کیوں نہیں لکھتے اور ہمارے حق میں فیصلے کیوں نہیں ہوتے۔ پھر وہ اپنی ذاتی کیفیات اور احساسات کو پوری قوم پر مسلط کر دیتے ہیں، جو دراصل خود ترسی (self-pity) کی ایک شکل ہے
مظلوم اور باغی میں آسمان زمین کا فرق ہوتا ہے۔ مظلوم وہ ہوتا ہے جو غلامی کو قبول کر لے، وسائل میں کم سے کم حصہ داری یعنی مونگ پھلی کے چند دانوں پر بھی اکتفاء کرے ، اور ہر معاملے میں سرِ تسلیم خم کرے۔ جس طرح سفید فام سامراج کے دور میں غلاموں کی تجارت ہوتی تھی اور ان پر زندگی کے ہر دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ جملہ عام ہو گیا تھا کہ “کتوں اور سیاہ فاموں کا داخلہ ممنوع ہے۔” جب تک وہ ظلم کو خاموشی سے سہتے رہے، تاریخ انہیں مظلوم اور بے بس کے نام سے یاد کرتی رہی۔ پھر ایک وقت آیا جب تاریخ نے انگڑائی لی، انہوں نے مزاحمت کی راہ اپنائی اور یوں مزاحمت کار کہلائے۔

آج حالات مختلف ہیں مگر حقیقت واضح ہے، بلوچ نے شروع ہی دن سے، کمزور حالت میں سہی، مزاحمت کی راہ اپنائی۔ یہ مزاحمت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ ہم چاہتے سر خم تسلیم کرکے حصہ داری مانگتے ، نوکریاں مانگتے ، اور پاکستانیت کے رنگ میں رنگ کر غلامی ہی کو آزادی کا نام دیتے ، لیکن ہم نے دوسرا رستہ اختیار کیا، آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلوچ اپنی آزادی اور بقایا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف جنگ کی پیش قدمی ہو اور دوسری طرف مظلومیت کے بیانیے کو فروغ دینا سراسر غیر منطقی محسوس ہوتا ہے۔

مظلومیت کا بیانیہ کبھی باغی کا بیانیہ نہیں ہوتا، کیونکہ باغی اپنا راستہ خود چنتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں سے بھرا اور خون سے رنگا ہوا ہوتا ہے۔ یہی شعوری فیصلہ اسے مظلوم نہیں بناتا۔ یہ جنگ ہے، اور جنگ میں یہ ممکن نہیں کہ راستہ خود چنا جائے اور پھر مظلومیت کا نوحہ پڑھا جاۓ
یہ کہا جاتا ہے کہ مظلومیت ایک سیاسی حربہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ ہم کیوں ہر ابھرتے بیانیے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ایک ہمہ گیر اور واضح سیاسی پروگرام کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات وہ گروہ بھی مظلومیت کا سہارا لیتے ہیں جن کا اصل کردار کچھ اور ہونا چاہیے۔
یقیناً ایک ماں، بہن یا بیوی اپنے گمشدہ عزیز کے لیے نوحہ کر سکتی ہے، یہ فطری ہے۔ مگر جب یہی رویہ اجتماعی سطح پر غالب آ جائے، تو یہ اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ جدوجہد تو جاری ہے، مگر بدلتے حالات کے لیے ہمارے پاس کوئی مکمل اور واضح لائحہ عمل موجود نہیں، چونکہ خوش فہمیوں کا سلسلہ دراز ہے ہم اپنے تہی یہ گماں کر بیٹھے ہیں طاقت کی زبان میں ہم نے خلل ڈال میٹاپولیٹکس کے میدان میں آگے ہیں ۔

ستر کی دہائی کی تحریک کمزور سطح پر جاری تحریک نے مریوں سمیت دیگر لوگوں کی گمشدگی کو بنیاد بناکر تحریکی بنیادوں مظلومیت جیسی ڈھکوسلا بیانئیے کو پنپنے نہیں دی۔ ھئیر بکش کا بھی بیشتر انٹریوز میں مظلومیت اور انسانی حقوق کا کوئی خاص تکرار نظر نہیں آتا وہ خالصتا ایک آزاد بلوچ سماج کی تخلیق کے ترجمان تھے
یہ سیاسی حربہ کس قدر کارگر ہو سکتا ہے اس کے لیے مارک تھوین “اندھیرے میں بیٹھے لوگوں “ کی خوش فہمیوں کے بارے میں بہت پہلے لکھ چکا ہے کہ کیسے “محبت، قانون اور نظم، انصاف، آزادی، نرمی، برابری عیساہیت دیانتداری، کمزوروں کا تحفظ، رحم، اعتدال، تعلیم یہ الفاظ برآمد کر لئے جاتے ہیں ……….یہ برانڈ بظاہر صرف برآمد کے لیے ہے۔ بظاہر۔ درحقیقت، خفیہ طور پر، یہ کچھ اور ہی ہے۔ باہر سے یہ خوبصورت اور دلکش لبادہ ہے، جو ہماری تہذیب (یورپی) کے وہ نمونے دکھاتا ہے جو ہم اپنے لیے محفوظ رکھتے ہیں؛ مگر اندر وہ اصل چیز ہوتی ہے جسے اندھیرے میں بیٹھا خریدار اپنے خون، آنسوؤں، زمین اور آزادی کے بدلے خریدتا ہے”

ایسی خریداری سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ کیا ہم اندھیرے میں رہ کر مظلومیت کا بیانیہ دہراتے رہیں، یا اپنی مزاحمت کو ایک واضح اور باوقار شناخت میں ڈھالیں؟ یہی انتخاب ہمارے مستقبل کے بیانیے اور” تاریخی شناخت” دونوں کا تعین کرے گا۔

“وہ (اغیار) اصرار کرتے ہیں کہ
ہماری کہانیاں صرف غم درد اور مظلومیت کی ہوں ،
تاکہ ہم انسانی ہمدردی کے لائق بن سکیں ،
اور ہمیں کچھ رحم مل جاۓ ۔
وہ رحم جو شکاریوں اور آقاؤں کے
ہتھیار ، کیمرے اور قلم کے رحم و کرم پر ہے”

ہارورڈ یونیورسٹی میں مدعو ناول نگار Viet Thanh Nguyen کی یہ گفتگو دراصل ویتنام کے تناظر میں تھی۔ مگر اس گفتگو کا یہ حصہ سنتے ہی میرے ذہن میں جو پہلا تاثر ابھرا، وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے وہ چہرے تھے جو مکران سے شال اور شال سے اسلام آباد تک سڑکوں پر کھڑی نظر آرہی ہیں ۔اغیار کے ہتھیاروں، کیمروں اور قلموں کے رحم و کرم پر۔

ہم نے آنے والی نسلوں، بالخصوص موجودہ نسل کے ساتھ شاید لاشعوری طور پر ایک بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ ہم نے بہت کچھ عجلت میں کر ڈالا۔ شاید ہر سمت میں یہی جلد بازی ہمیں ٹھہر کر سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر چکی ہے۔ حالانکہ کمزور کو طاقتور سے زیادہ سوچنا چاہیے نتیجتاً، سطحیت ہر پہلو میں نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔

انہی پہلوؤں میں ایک پہلو ہمارا بیانیہ کا پہلو بھی ہے ، وہ بیانیہ جس کے ذریعے ہم دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم مظلوم ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ مظلوم نہیں بلکہ باغی ہیں، اور باغی کبھی مظلوم نہیں ہوتا۔

ہمارے لکھاری، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور صحافی دن رات اسی میں مگن ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا اور وہ زیادتی ہوئی، مگر کوئی ہمارا حال پوچھنے والا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ ریاست کے دانشوروں اور اداروں سے بھی مسلسل شکوہ کنعاں ہیں کہ وہ ہمارے حق میں کیوں نہیں بولتے، کیوں نہیں لکھتے اور ہمارے حق میں فیصلے کیوں نہیں ہوتے۔ پھر وہ اپنی ذاتی کیفیات اور احساسات کو پوری قوم پر مسلط کر دیتے ہیں، جو دراصل خود ترسی (self-pity) کی ایک شکل ہے
مظلوم اور باغی میں آسمان زمین کا فرق ہوتا ہے۔ مظلوم وہ ہوتا ہے جو غلامی کو قبول کر لے، وسائل میں کم سے کم حصہ داری یعنی مونگ پھلی کے چند دانوں پر بھی اکتفاء کرے ، اور ہر معاملے میں سرِ تسلیم خم کرے۔ جس طرح سفید فام سامراج


کے دور میں غلاموں کی تجارت ہوتی تھی اور ان پر زندگی کے ہر دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ جملہ عام ہو گیا تھا کہ “کتوں اور سیاہ فاموں کا داخلہ ممنوع ہے۔” جب تک وہ ظلم کو خاموشی سے سہتے رہے، تاریخ انہیں مظلوم اور بے بس کے نام سے یاد کرتی رہی۔ پھر ایک وقت آیا جب تاریخ نے انگڑائی لی، انہوں نے مزاحمت کی راہ اپنائی اور یوں مزاحمت کار کہلائے۔

آج حالات مختلف ہیں مگر حقیقت واضح ہے، بلوچ نے شروع ہی دن سے، کمزور حالت میں سہی، مزاحمت کی راہ اپنائی۔ یہ مزاحمت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ ہم چاہتے سر خم تسلیم کرکے حصہ داری مانگتے ، نوکریاں مانگتے ، اور پاکستانیت کے رنگ میں رنگ کر غلامی ہی کو آزادی کا نام دیتے ، لیکن ہم نے دوسرا رستہ اختیار کیا، آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلوچ اپنی آزادی اور بقایا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف جنگ کی پیش قدمی ہو اور دوسری طرف مظلومیت کے بیانیے کو فروغ دینا سراسر غیر منطقی محسوس ہوتا ہے۔

مظلومیت کا بیانیہ کبھی باغی کا بیانیہ نہیں ہوتا، کیونکہ باغی اپنا راستہ خود چنتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں سے بھرا اور خون سے رنگا ہوا ہوتا ہے۔ یہی شعوری فیصلہ اسے مظلوم نہیں بناتا۔ یہ جنگ ہے، اور جنگ میں یہ ممکن نہیں کہ راستہ خود چنا جائے اور پھر مظلومیت کا نوحہ پڑھا جاۓ
یہ کہا جاتا ہے کہ مظلومیت ایک سیاسی حربہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ ہم کیوں ہر ابھرتے بیانیے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ایک ہمہ گیر اور واضح سیاسی پروگرام کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات وہ گروہ بھی مظلومیت کا سہارا لیتے ہیں جن کا اصل کردار کچھ اور ہونا چاہیے۔
یقیناً ایک ماں، بہن یا بیوی اپنے گمشدہ عزیز کے لیے نوحہ کر سکتی ہے، یہ فطری ہے۔ مگر جب یہی رویہ اجتماعی سطح پر غالب آ جائے، تو یہ اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ جدوجہد تو جاری ہے، مگر بدلتے حالات کے لیے ہمارے پاس کوئی مکمل اور واضح لائحہ عمل موجود نہیں، چونکہ خوش فہمیوں کا سلسلہ دراز ہے ہم اپنے تہی یہ گماں کر بیٹھے ہیں طاقت کی زبان میں ہم نے خلل ڈال میٹاپولیٹکس کے میدان میں آگے ہیں ۔

ستر کی دہائی کی تحریک کمزور سطح پر جاری تحریک نے مریوں سمیت دیگر لوگوں کی گمشدگی کو بنیاد بناکر تحریکی بنیادوں مظلومیت جیسی ڈھکوسلا بیانئیے کو پنپنے نہیں دی۔ ھئیر بکش کا بھی بیشتر انٹریوز میں مظلومیت اور انسانی حقوق کا کوئی خاص تکرار نظر نہیں آتا وہ خالصتا ایک آزاد بلوچ سماج کی تخلیق کے ترجمان تھے
یہ سیاسی حربہ کس قدر کارگر ہو سکتا ہے اس کے لیے مارک تھوین “اندھیرے میں بیٹھے لوگوں “ کی خوش فہمیوں کے بارے میں بہت پہلے لکھ چکا ہے کہ کیسے “محبت، قانون اور نظم، انصاف، آزادی، نرمی، برابری عیساہیت دیانتداری، کمزوروں کا تحفظ، رحم، اعتدال، تعلیم یہ الفاظ برآمد کر لئے جاتے ہیں ……….یہ برانڈ بظاہر صرف برآمد کے لیے ہے۔ بظاہر۔ درحقیقت، خفیہ طور پر، یہ کچھ اور ہی ہے۔ باہر سے یہ خوبصورت اور دلکش لبادہ ہے، جو ہماری تہذیب (یورپی) کے وہ نمونے دکھاتا ہے جو ہم اپنے لیے محفوظ رکھتے ہیں؛ مگر اندر وہ اصل چیز ہوتی ہے جسے اندھیرے میں بیٹھا خریدار اپنے خون، آنسوؤں، زمین اور آزادی کے بدلے خریدتا ہے”

ایسی خریداری سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ کیا ہم اندھیرے میں رہ کر مظلومیت کا بیانیہ دہراتے رہیں، یا اپنی مزاحمت کو ایک واضح اور باوقار شناخت میں ڈھالیں؟ یہی انتخاب ہمارے مستقبل کے بیانیے اور” تاریخی شناخت” دونوں کا تعین کرے گا۔