سراوان(ہمگام نیوز) سراوان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بلوچ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ یہ واقعہ 29 مئی 2026 کی شام زنگیان گاؤں میں پیش آیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت محمد یوسف ملک زادہ کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ تقریباً 17 سال کے تھے، عبدالخالق کے فرزند تھے اور سراوان کے گاؤں زنگیان کے رہائشی تھے۔
ذرائع کے مطابق محمد یوسف عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد زنگیان محلے میں واقع نور مسجد کے سامنے موجود تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران ایک گولی ان کے سینے میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور واردات کے فوراً بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ خبر کی اشاعت تک نہ تو حملہ آوروں کی شناخت سامنے آ سکی ہے اور نہ ہی اس حملے کے محرکات کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت جاری کی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد شہریوں نے علاقے کی پولیس چوکی کو اطلاع دی، تاہم ذمہ دار اہلکار رات گئے تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچے۔ مقامی باشندوں کے مطابق حکام نے فون پر شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ خود ہی واقعے کی ابتدائی رپورٹ اور کارروائی مکمل کریں۔
ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں قتل اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد فوری اور مؤثر کارروائی نہ ہونے سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔


