کسرکند (ھمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، جمعرات 5 جون 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر کسرکند کے پہاڑی علاقے میں جاری چار روزہ تلاش کے دوران لاپتہ ہونے والے ایک 12 سالہ بلوچ بچے کی لاش برآمد کر لی گئی۔
بچے کی شناخت 12 سالہ عزیر بلوچیمہر ولد عیسی کے نام سے ہوئی ہے جو کہ کسرکند کے علاقے سراوانی بازار کے رہائشی تھے۔
رپورٹ کے مطابق، عزیر 9 جون 2026 کو اپنے بھائی کے ساتھ کوہ پیمائی اور پہاڑی علاقے سے جنگلی شہد جمع کرنے کے لیے قریبی پہاڑ “چپچوک” کی طرف گیا تھا، جہاں وہ دونوں لاپتہ ہو گئے۔ چار روز تک جاری رہنے والی تلاش کے بعد اس کا جسدِ خاکی ضلع قصرقند کے مشرقی پہاڑی علاقے میں ملا۔
ابتدائی طور پر اس کی موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارے کریں گے اور بعد میں تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق تلاش کے دوران ریسکیو ٹیموں، ہلال احمر کے اہلکاروں، مقامی رضاکاروں اور علاقے کے مکینوں نے حصہ لیا۔ اس دوران علاقے کی فضائی نگرانی کے لیے چھ پروپیلر والا ایک ڈرون بھی استعمال کیا گیا۔ شدید دشوار گزار پہاڑی علاقے میں مسلسل تلاش جاری رہی جبکہ بچے کے اہل خانہ اس دوران شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا رہے۔


