Oplus_16908288

زاہدان (ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، ایران کے شہر زاہدان کی مرکزی جیل میں قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ایک بلوچ قیدی کو پھانسی دے دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، 17 مئی 2026 کی صبح سویرے حسین براہوئی نامی بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ حسین براہوئی کی عمر تقریباً 24 سال تھی، وہ علیرضا کے بیٹے تھے اور زاہدان کے رہائشی تھے۔

اطلاعات کے مطابق، حسین براہوئی کو تقریباً پانچ سال قبل ایک اجتماعی جھگڑے کے دوران قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں قصاص کے تحت سزائے موت سنائی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول کے ورثاء نے رضامندی ظاہر کرنے اور پھانسی رکوانے کے لیے 12 ارب تومان بطور دیت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم حسین براہوئی کے اہلِ خانہ یہ رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ورثاء کی جانب سے معافی نہ ملنے کے باعث آخرکار ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 کے دوران ایران کی 27 مختلف جیلوں میں کم از کم 137 بلوچ قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ ان میں زاہدان جیل 34 پھانسیوں کے ساتھ سرفہرست رہی۔

رپورٹ کے مطابق، ان 137 افراد میں سے 94 قیدی (68.6 فیصد) منشیات سے متعلق مقدمات، 36 قیدی (26.3 فیصد) قتل کے الزامات، 4 افراد (2.9 فیصد) سیاسی و عقیدتی الزامات، 2 افراد (1.5 فیصد) زیادتی کے مقدمات جبکہ ایک شخص (0.7 فیصد) غیر واضح الزام کے تحت پھانسی دیے گئے۔