Homeخبریںفیس لیس ٹرائلز انصاف کا قتل ہے ، بی وائی سی رہنماؤں...

فیس لیس ٹرائلز انصاف کا قتل ہے ، بی وائی سی رہنماؤں کی گرفتاری بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز دبانے کی کوشش ہے: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

شال(ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ زیر حراست بی وائی سی رہنما گزشتہ نو روز سے نام نہاد “فیس لیس ٹرائلز” کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جنہیں انہوں نے “شرمناک ٹرائلز” قرار دیا۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے مطابق ان کارروائیوں میں ملزمان، ان کے وکلا اور اہل خانہ کو نہ تو سرکاری وکلا، گواہوں یا پیش کیے جانے والے شواہد تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں گواہوں سے جرح یا شواہد کو چیلنج کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے نظام میں فیصلے یکطرفہ طور پر کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے بی وائی سی کے گرفتار رہنما ان غیر منصفانہ کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات نے ریاستی اداروں کے ارادوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے بقول گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے نام پر چھاپے، فوجی کارروائیاں، لوٹ مار، گھروں کو نذر آتش کرنے اور عوام کی تذلیل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ انہی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کے مطالبات نہایت واضح اور سادہ ہیں: بلوچ نسل کشی کا خاتمہ، باعزت زندگی کے حق کا تحفظ اور ریاست کو اپنے آئین، قوانین اور قانونی اصولوں کا پابند بنانا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی وائی سی کے مؤقف کو جان بوجھ کر مسخ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کے رہنماؤں کی گرفتاری، ان کے خلاف درج کیے گئے مبینہ طور پر من گھڑت مقدمات، جھوٹے الزامات اور میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے بیانیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچ نسل کشی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منظم نظام تشکیل دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ جیلوں اور عدالتوں میں بی وائی سی رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک محض چند افراد کو سزا دینے کی کوشش نہیں بلکہ اس سے پورا عدالتی اور قانونی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک پراسیکیوٹر جنرل، جسے جج کے عہدے پر ترقی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، نے موجودہ جج پر دباؤ ڈال کر مقدمات دس روز میں نمٹانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں جن میں گواہوں سے سوال کرنے یا شواہد کو چیلنج کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جاتا، لیکن ان کارروائیوں کو “ویڈیو ٹرائل” یا “فیس لیس ٹرائل” کا نام دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیر حراست بی وائی سی رہنما اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تنظیم نے بھی ان کارروائیوں کے خلاف تین روزہ آن لائن احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی رہنما ان چہرہ پوش ٹرائلز کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے مقدمات کی پیروی کریں، مگر اس کے باوجود ان کی غیر موجودگی میں عدالتی کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں اور وکلا کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیر کے روز متوقع فیصلہ بظاہر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر مرکزی ملزم پہلے ہی بری ہو چکا ہے تو دیگر افراد کو سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں ملوث افراد نہ صرف اپنے پیشوں بلکہ قانون سے بھی غداری کر رہے ہیں اور ان اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں جن کے تحفظ کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا:

“ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم بلوچ نسل کشی کے خلاف ہیں اور اس کے بارے میں آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ یہ ہماری زندگی اور وقار کا مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو ہمارے وجود سے مسئلہ ہے اور جو بلوچ نسل کشی کے مسئلے کو اٹھانے پر پریشان ہوتے ہیں، وہی آج یہ اقدامات کر رہے ہیں۔”

انہوں نے پاکستان بھر کی سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلا، ججوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان مقدمات اور چہرہ پوش ٹرائلز کے خلاف آواز بلند کریں اور بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف کے تقاضوں کا دفاع نہ کیا گیا تو خاموش رہنے والے بھی ان ناانصافیوں میں شریک تصور کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز