Oplus_16908288

زاہدان (ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق پھانسی پانے والے بلوچ قیدی کی شناخت نعمت اللہ براہوئی کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 31 سال تھی۔ وہ امیر محمد کے بیٹے، شادی شدہ اور چار بچوں کے والد تھے۔ ان کا تعلق زابل شہر سے تھا اور وہ وہیں کے رہائشی تھے۔

ذرائع کے مطابق نعمت اللہ براہوئی کو سال 2022 میں زاہدان میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں زاہدان کی انقلابی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ہفتہ، 20 جون 2026 کو پھانسی سے قبل جیل کی تنہائی کی کوٹھڑی میں منتقل کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زندگی کا حق، جو بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 6 میں درج ہے، بنیادی انسانی حقوق میں شمار ہوتا ہے۔ اس حق سے محروم کرنے کے لیے منصفانہ عدالتی کارروائی اور تمام قانونی ضمانتوں کا مکمل احترام ضروری ہے۔

بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل قیدی کے اہل خانہ کو بروقت اطلاع دینا اور آخری ملاقات کا موقع فراہم کرنا بھی بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بالخصوص منشیات سے متعلق مقدمات میں دی جانے والی سزائے موت اور عدالتی شفافیت کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔