Homeخبریںرودبار جنوب: مطلوب شخص کی عدم موجودگی پر بلوچ خاتون اور ایک...

رودبار جنوب: مطلوب شخص کی عدم موجودگی پر بلوچ خاتون اور ایک سالہ بچے کی گرفتاری، اہلِ خانہ نے یرغمال بنانے کا الزام عائد کر دیا

زاہدان (ھمگام نیوز) مقامی ذرائع کے مطابق ہفتہ 20 جون 2026 کی شام کرمان کے علاقے اسلام آباد رودبار جنوب کی تحصیل حیدرآباد میں پولیس کے انسدادی جرائم (آگاہی) یونٹ نے ایک بلوچ شہری کے گھر پر چھاپہ مارا۔ مطلوب شخص کی عدم موجودگی پر اہلکاروں نے اس کی اہلیہ اور ایک سالہ بچے کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت 37 سالہ کبری نارویی دختر رضا اور ان کے ایک سالہ بیٹے سامان نارویی ولد محمود کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق اسلام آباد رودبار جنوب کے گاؤں حیدرآباد سے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار محمود نارویی ولد غلام حسین کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پہنچے تھے، تاہم چھاپے کے وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے اور مکان میں صرف ان کی اہلیہ اور کم سن بیٹا موجود تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق مطلوب شخص کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد پولیس نے خاتون اور ان کے ایک سالہ بچے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں کا مؤقف ہے کہ خاتون اور بچے کا زیرِ تفتیش معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں صرف محمود نارویی پر دباؤ ڈالنے اور خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش کرنے پر مجبور کرنے کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی اسلام آباد رودبار جنوب کی پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی میں انجام دی گئی، جبکہ خاندان نے خاتون اور کم سن بچے کی حراست اور ان کی حالت کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری قانون کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ فوجداری ذمہ داری انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے اور کسی شخص کو صرف کسی ملزم سے خاندانی تعلق کی بنیاد پر گرفتار یا سزا نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح بچوں یا غیر ملزم افراد کو ان کے رشتہ داروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے حراست میں لینا منصفانہ عدالتی اصولوں، بچوں کے حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیاروں سے متصادم سمجھا جاتا ہے اور اسے من مانی گرفتاری کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز