تہران(ھمگام نیوز ) ایران کے سپریم لیڈر کے بین الاقوامی امور کے مشیر محمد اکرمینیا نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے کیے گئے تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
محمد اکرمینیا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو اسرائیلی پالیسیوں سے متاثر ہو کر ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہییں جو مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے کے مسائل کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن نے دوبارہ عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس سے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھے گی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کارروائیاں عارضی طور پر رکی ہوئی ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ یمن، بحیرہ احمر اور دیگر علاقوں میں جاری جھڑپوں کے باعث سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔















